پاکستان سمیت عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے، جس سے ملکی اور عالمی سطح پر سونے کی خریداری پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑی بڑھوتری دیکھنے کو ملی ہے۔پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 77 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 858 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ قیمت 2 لاکھ 37 ہزار 483 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس اضافے کی وجہ ملکی اقتصادی حالات، روپے کی قدر میں کمی، اور عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوامل ہوسکتے ہیں۔عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق، عالمی سطح پر سونے کی قیمت 10 ڈالر اضافے کے ساتھ 2652 ڈالر فی اونس تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ مختلف اقتصادی عوامل، جیسے امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، عالمی اقتصادی عدم استحکام، اور سونے کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں یہ اضافہ عالمی سطح پر معیشت میں اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے سونے کی خریداری میں اضافے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اور موجودہ اقتصادی حالات میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہو سکتا ہے۔پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صارفین پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ زیادہ قیمتیں لوگوں کے لیے سونا خریدنا مشکل بنا رہی ہیں۔ سونے کے زیورات کی خریداری میں کمی آ رہی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ گہنوں کی صنعت بھی اس بڑھتی ہوئی قیمت سے متاثر ہو رہی ہے۔
عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں اضافے کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں، جہاں مختلف ممالک میں سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی اقتصادی عدم استحکام اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔