سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل غیر آئینی ہے:اسد قیصر

سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل غیر آئینی ہے:اسد قیصر

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ کسی صورت سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہو سکتا اور اس سلسلے میں وہ اپنے موقف کو سپریم کورٹ کے سامنے پہنچانا چاہتے ہیں۔

 اسلام آباد میں علامہ ناصر عباس کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ ملٹری کورٹس کے ذریعے ورکروں کو سزاؤں پر افسوس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں شہری کے حقوق مساوی ہیں، اور ان کا مقصد سپریم کورٹ میں عوام کی آواز پہنچانا ہے۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ الزامات کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سمیت دیگر فورمز ہیں جہاں مقدمات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج سپریم کورٹ کے سامنے اپنا نکتہ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ سویلین کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔علامہ ناصر عباس نے اس موقع پر عدلیہ کے فیصلوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے غلط یا درست ہو سکتے ہیں، تاہم کچھ فیصلے قوموں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں عدلیہ نے مارشل لاء کو تسلیم کیا، جس کا ملک کو نقصان اٹھانا پڑا۔ علامہ ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے قیام کو پاکستان کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ مذاکرات پاکستان کی سالمیت اور بقاء کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے ان مذاکرات کو شملہ معاہدے سے بھی اہم سمجھا، کیونکہ یہ عوام کے حقوق کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات صرف سیاسی نہیں، بلکہ پاکستان کی بقاء کے لیے اہم ہیں اور ان پر توجہ دی جانی چاہیے۔