سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران، جسٹس محمد علی مظہر نے ملٹری کورٹس پر دو اہم اعتراضات کی نشاندہی کی:
غیر جانبداری کا فقدان: ملٹری ٹرائلز کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، جس سے انصاف کی فراہمی پر شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
قانونی تجربے کی کمی: ملٹری کورٹس کے ججوں کے پاس قانونی تجربہ نہ ہونے کا اعتراض بھی سامنے آیا ہے، جو منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے۔
وکیل عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملٹری کورٹس ایگزیکٹو کا حصہ ہیں اور ان کا بنیادی کام سرحدوں کی حفاظت ہے، نہ کہ سویلینز کا ٹرائل کرنا۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو، سزا تو ہونی چاہیے، چاہے ٹرائل یہاں ہو یا وہاں، کیا فرق پڑتا ہے۔مزید برآں، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا ملٹری کورٹس کو عدلیہ تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کے نتائج مختلف ہوں گے۔ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ملٹری کورٹس عدلیہ کا حصہ نہیں ہیں اور ان کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے۔یہ سماعت اس اہم سوال پر مرکوز ہے کہ کیا موجودہ نظام کے تحت سویلینز کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے یا نہیں، اور کیا ملٹری کورٹس میں سویلینز کا ٹرائل آئین اور بنیادی حقوق کے مطابق ہے۔