بسنت کا دوسرا روز:آسمان پر رنگ برنگی گڈیاں‘چھتوں پر آنچل لہراتے رہے پتنگیں‘ڈورفروخت کرنیوالوں نے تجوریاں بھر لیں

 تیز دھوپ بھی خواتین بچوں اور بڑوں کو چھتوں کا رخ کرنے سے نہ روک سکی‘تیز ہوا چلتی رہی‘شہریوں نے پتنگیں اڑائیں، پیچ لڑائے،  ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے
عوام نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کا خوب استعمال کیا‘مفت سفر کرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ 95 ہزار ریکارڈ کی گئی‘رائیڈر مفت سروس دینے کے بجائے کرایہ لیتے رہے
لاہور(شہزاد راجپوت‘ایجنسیاں) لاہور میں بسنت کے دوسرے دن بھی لاہوریوں کا جوش و خروش عروج پر رہا۔ تیز دھوپ بھی خواتین بچوں اور بڑوں کو چھتوں کا رخ کرنے سے نہ روک سکی۔شہریوں نے پتنگ اڑائی، پیچ لڑائے، اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے،  خواتین نے بھی پتنگ اڑا کر خوب انجوائے کیا،  بچوں نے بھی خوب ہلہ گلہ کیا۔ لبرٹی چوک میں بسنت کی رنگینیاں دیکھنے میں آئیں، شہری تاریخی مقامات کی سیر کے لیے اندرونِ شہر بھی پہنچ گئے، شہریوں نے کہا کہ اندرونِ لاہور کے تاریخی مناظر دیکھ کر پرانے وقتوں کی یاد تازہ ہوگئی۔)پنجاب حکومت کا بسنت کے تینوں روز ینگو کے ذریعے یومیہ 60 ہزار مفت رائڈز فراہم کرنے کے اعلان پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت اور ینگو کے درمیان بسنت کے تین دنوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 80 ہزار مفت رکشہ رائڈز فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا تاہم حکومتی اعلان کے برعکس شہریوں کو ینگو رکشہ سروس مفت فراہم نہیں کی جا سکی۔ینگو رکشہ سروس استعمال کرنے والے مسافروں سے باقاعدہ کرایہ وصول کیا گیا جس کے شواہد سامنے آ گئے ہیں، اندرون شہر بھی ینگو رائڈ کے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں ‘جبہ عوام نے ٹرانسپورٹیشن کا میگا انفراسٹرکچر اورنج لائن میٹرو ٹرین کا خوب استعمال کیا۔اورنج لائن پر مفت سفر کرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ 95 ہزار ریکارڈ کی گئی۔عام دنوں میں اورنج لائن پر روزانہ اوسطا 2لاکھ 30 ہزار سے 40 ہزار تک شہری سفر کرتے ہیں۔مفت سفر نے لاہوریوں کا مزہ دوبالا کردیا، ایک ہی روز میں50 ہزار مسافروں کا اضافہ ریکارڈ  کیا گیا۔