بسنت کا پہلا دن لہولہان‘ایک نوجوان جاں بحق‘27افراد زخمی آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھرگیا‘چھتوں پر میوزک‘بھنگڑے

 سکھ نہر کے علاقے میں 25 سالہ رشید پتنگ لوٹتے ہوئے بجلی کا کرنٹ لگنے سے موقع پر جاں بحق ہوگیا‘ڈور پھرنے ‘کرنٹ لگنے او ر چھتوں سے گرنے سے لوگ زخمی ہوئے
بسنت نائٹ پر شہری صبح تک جاگتے رہے‘ناشتہ کرنے کے بعد نوجوان بڑی تعداد میں موچی گیٹ کا رخ کرتے رہے جہاں پتنگ بازی کے سامان کی خریداری جاری رہی
لاہور(کرائم رپورٹر‘سپیشل رپورٹر) بسنت کے دوران  مختلف واقعات، ایک نوجوان جاں بحق، 27افراد زخمی ہو گئے ۔ ذرائع کے مطابق  سکھ نہر کے علاقے میں 25 سالہ رشید پتنگ لوٹتے ہوئے بجلی کے پول کے قریب آیا جہاں کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا اس کے علاؤہ  ذرائع کا کہنا ہے کہ پتنگ کی ڈور پھرنے، چھتوں سے گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ زیادہ تر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے، تاہم چند کیسز کو مزید علاج کے لیے میو ہسپتال اور دیگر بڑے طبی مراکز میں ریفر کیا گیا۔زخمیوں میں طیب،ارسلان، سبحان، حبیب ولد محمد حنیف (30 سال)، سمیع اللہ ولد جاوید (30 سال)، سلمان ولد نثار (14 سال)، محمد سالم ولد ارشاد احمد (17 سال)، احسن ولد محمد اکرم (37 سال)، عبداللہ ولد محمد ارشد (17 سال)، ارحا دختر ندیم (8 سال)، عبدالواحد ولد محمد صالحان (12 سال)، عبدالمعید ولد محمد عامر (14 سال)، دانیال ولد اشرف (25 سال)، محمد معظم ولد محمد علی (25 سال)، عدیل فاروق ولد فاروق مسیح (16 سال)، خضر (15 سال)، حذیفہ ولد راشد (6 سال)، علی رضا ولد محمد سلیم (19 سال)، حامد ولد ظفر حسین (30 سال)، شہباز ولد جمیل (18 سال)، شہروز ولد محمد ندیم (16 سال)، ثاقب ولد رمضان (29 سال)، سمیر ولد جاوید (24 سال)، صیام ولد مقصود (20 سال) اور دیگر شامل ہیں، جنہیں معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں اور ان کی حالت نارمل بتائی گئی ہے۔ریسکیو زرائع  کے مطابق زوہیب ولد عظیم احمد (29 سال) کو سمن آباد ہسپتال منتقل کیا گیا جن کی حالت سنجیدہ ہے، جبکہ چند کم عمر زخمیوں کو میو ہسپتال ریفر کیا گیا ہے۔ ایک اور واقعے میں داؤد ولد ریاض (عمر 16/17 سال) پتنگ لوٹتے ہوئے بجلی کے کرنٹ سے زخمی ہوا، جس پر پولیس کی جانب سے قانونی کارروائی جاری ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر حادثات پتنگ کی خطرناک ڈور، چھتوں سے غیر محفوظ انداز میں اترنے اور بجلی کی تاروں کے قریب پتنگ لوٹنے کے باعث پیش آئے‘دریں اثناء بسنت کے آغاز پر شہر بھر میں پتنگ بازوں کا جوش و خروش عروج پر رہا۔ گھروں کی چھتیں آباد ہو گئیں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے پڑے اور گلیوں محلوں میں جشنِ بہاراں کا سماں بندھ گیا۔ نوجوانوں سمیت ہر عمر کے افراد پتنگ بازی اور خوشیوں میں مصروف دکھائی دیے۔لبرٹی چوک بسنت کے رنگوں میں رنگ گیا، جہاں روشنیوں اور رنگ برنگی جھنڈیوں نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔ شہر کے بازاروں اور اہم شاہراہوں کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور رات کے وقت پورا لاہور روشن و جگمگاتا رہا۔رات بھر پتنگ بازی کے بعد شہری مختلف ناشتہ پوائنٹس پر پہنچے۔ ناشتہ کرنے کے بعد نوجوان بڑی تعداد میں موچی گیٹ کا رخ کرتے رہے جہاں پتنگ بازی کے سامان کی خریداری جاری رہی