دہشتگردی پر سیاست قابلِ مذمت ، فتنہ الخوارج سے ڈٹ کر لڑیں گےعظمی بخاری

وزیراعلیٰ نے  بسنت منانے کا خواب حقیقت میں بدل دیا ‘ لاہور کو زندہ دلوں کا شہر سنتے آئے تھے ‘ اپنی آنکھوں سے اس کی رونق اور محبت دیکھ لی:غیر ملکی مہمان
غیرملکی شہریوں نے لاہور میں مختلف چھتوں پر پتنگ بازی میں بھرپور حصہ لیا‘20 مختلف انٹرنیشنل میڈیا ہاوسز کے نمائندے  کوریج کرنے لاہور پہنچے ہیں
لاہور(سپیشل رپورٹر ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی زاہد بخاری نے کہا ہے  ایسے عناصر قابلِ مذمت ہیں جو قومی سانحوں کو سیاسی مقاصد کیلئے  استعمال کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردِعمل میں عظمی بخاری نے کہا کہ لعنت ہے ان لوگوں پر جو دہشتگردی کے واقعے پر سیاست کر رہے ہیں۔ جن عناصر کو ماضی میں ہزارہ کے شہیدوں کی لاشیں بلیک میل کرتی تھیں، وہ آج خاموش رہیں۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جو لوگ دہشتگردی کے شہدا اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں، انہیں خاموش رہنا چاہیے، دہشتگردی کے خلاف یہ ایک جنگ ہے جسے یہ قوم پہلے بھی جیت چکی ہے اور اب بھی کامیابی حاصل کرے گی‘دریں اثناء وزیر اطلاعات نے بسنت منانے کے لئے لاہور آنے والے غیرملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کہا  بسنت نہ صرف لاہور کی ثقافتی شناخت ہے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کا بہترین موقع بھی ہے۔غیرملکی مہمانوں نے لاہور کی مہمان نوازی، ثقافتی رنگوں اور عوامی جوش و خروش کو سراہتے ہوئے کہا  وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں بسنت منانے کا خواب حقیقت میں بدل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لاہور کو زندہ دلوں کا شہر سنتے آئے تھے اور آج اپنی آنکھوں سے اس کی رونق اور محبت دیکھی۔غیرملکی شہریوں نے پتنگ بازی میں بھرپور حصہ لیا اور لاہور کے کلچر کو خوبصورت اور منفرد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا  پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت جیسے ثقافتی تہوار کی بحالی ایک خوش آئند اقدام ہے جو عوامی خوشیوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی بھی بسنت کی سرگرمیوں میں شریک ہوئے اور پتنگ بازی کے روایتی شوق میں حصہ لیا۔بسنت فیسٹیول کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تقریباً 20 مختلف بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کے نمائندے بھی لاہور پہنچے ہیں، جو اس رنگا رنگ ثقافتی میلے کی کوریج کر رہے ہیں