بانیٔ پی ٹی آئی کا آرمی چیف کو دوسرا کھلا خط

بانیٔ پی ٹی آئی کا آرمی چیف کو دوسرا کھلا خط

اسلام آباد:بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو دوسرا کھلا خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے جیل میں مبینہ بدسلوکی، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، اور انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

آرمی چیف کو دوسرا کھلا خط
بانیٔ پی ٹی آئی نے اپنے خط میں لکھا کہ انہوں نے ملک و قوم کی بہتری کے لیے نیک نیتی کے ساتھ آرمی چیف کے نام کھلا خط لکھا ہے، اور اس میں نشاندہی کیے گئے چھ نکات پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان کی حمایت کریں گے۔

انتخابی دھاندلی اور آئینی ترمیم کا ذکر
خط میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں پری پول دھاندلی کی گئی اور نتائج تبدیل کرکے حکومت قائم کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے 26 ویں آئینی ترمیم کروائی گئی، جبکہ آزادیٔ اظہار کو دبانے کے لیے پیکا قانون کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔

جیل میں بدسلوکی کے الزامات
سابق وزیرِاعظم نے اپنے خط میں کہا کہ جیل میں ان کے ساتھ سخت ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔انہیں موت کی چکی میں رکھا گیا، جہاں 20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا اور سورج کی روشنی تک میسر نہیں تھی۔پانچ روز تک ان کے سیل کی بجلی بند رکھی گئی، اور وہ مکمل اندھیرے میں رہے۔ورزش کا سامان اور ٹی وی بھی لے لیا گیا، جبکہ اخبار بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔کتابوں کی فراہمی بھی کبھی کبھار روک دی جاتی ہے۔ان کے بیٹوں سے پچھلے چھ ماہ میں صرف تین بار بات کروائی گئی، اور عدالتی احکامات کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
گنتی کے چند افراد کو ہی ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کی اہلیہ سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔ان کی اہلیہ کو بھی قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے دو ہزار سے زائد کارکنوں، حامیوں اور رہنماؤں کی ضمانت کی درخواستیں عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
پاکستان میں آزادیٔ اظہار پر قدغن
بانیٔ پی ٹی آئی نے خط میں لکھا کہ پیکا جیسے کالے قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

سیاسی عدم استحکام کا خدشہ
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کرکے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بنیاد رکھی گئی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

فوج کی قربانیوں کا اعتراف
خط کے آخر میں بانیٔ پی ٹی آئی نے فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے فوجی پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کے لیے جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، اور ان کی خدمات قابلِ تعریف ہیں۔

نتائج اور ممکنہ اثرات
یہ دوسرا کھلا خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بانیٔ پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کو مختلف قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ خط میں لگائے گئے الزامات اور مطالبات کا ملکی سیاست پر کیا اثر پڑے گا، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔