وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت آئین میں مجموعی طور پر 46 ترامیم کی جائیں گی۔
اس اہم ترمیم کے ذریعے فوجی اداروں میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی اور نئے فوجی یونٹوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
آئین میں ترامیم:
آئین کے مختلف آرٹیکلز میں 46 ترامیم کی جائیں گی۔ان ترامیم میں آئین کی تشریح، ججز کی ٹرانسفر، اور آئین کے مختلف شقوں میں تبدیلی شامل ہے۔
نئے فوجی ادارے کا قیام:
فوج میں چوتھی فورس کے طور پر آرمی راکٹ فورس (ARF) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس کے علاوہ، آرمی، ایئر فورس، اور نیوی کے بعد اب آرمی راکٹ فورس بھی شامل ہوگی۔
کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا قیام بھی عمل میں آئے گا، جو فوجی اداروں کے اہم کمانڈنگ کردار ادا کرے گا۔
فوجی کمانڈ میں تبدیلیاں:
کمانڈر آف ڈیفنس فورسز اور چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کے عہدوں میں تبدیلی کی جائے گی۔اسٹرٹیجک پلان ڈویژن (SPD) کو آرمی راکٹ فورس میں شامل کیا جائے گا، جو پہلے چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کے ماتحت تھی، لیکن اب اس کا سربراہ کمانڈر آف ڈیفنس فورسز ہوگا۔
ترمیم کا عمل:
کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ترامیم سینٹ میں پیش کی جائیں گی۔سینٹ اور قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی ان ترامیم کا جائزہ لے گی۔کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی جس میں مختلف نمائندے شامل ہوں گے۔
دیگر اہم نکات:
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ اجلاس آذربائیجان کے شہر باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئی۔اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی بریفنگ دی۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔یہ ترمیم پاکستان کے دفاعی اداروں میں بنیادی اصلاحات اور نئے فوجی یونٹوں کے قیام کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔