ویب ڈیسک:وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیر دفاع نے اپنے ایکس (سابقہ ٹویٹر) اکاونٹ پر یہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ بعض افراد کا خیال ہے کہ امریکہ سے ایک کال آنے کے بعد عمران خان کو رہا کر دیا جائے گا اور پاکستان انکار نہیں کر سکے گا، تاہم خواجہ آصف نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو امریکہ سے 5 ارب ڈالر کی آفر کی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس آفر کو ٹھکرایا اور ایٹمی دھماکہ کر کے اپنی خود مختاری کا ثبوت دیا۔ اسی طرح، جنرل پرویز مشرف کو بھی امریکہ سے کال آئی تھی، لیکن وہ اس وقت کے امریکی حکام کی توقعات سے زیادہ پر راضی ہو گئے تھے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان اب دہشت گردی کے سنگین اثرات بھگت رہا ہے، خاص طور پر 9/11 کے بعد کی جنگ کے نتیجے میں، لیکن اس وقت افغانستان میں امن قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف اور نواز شریف کے ساتھ ہوئے فیصلے ان بیانات دینے والے لوگوں کی موجودگی میں کیے گئے تھے، جو آج بھی پاکستان کے حالات پر تبصرہ کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھے گا لیکن جب ضرورت ہوگی تو اپنے قومی مفاد میں پرزور اختلافات بھی کرے گا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف جنگ بندی کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ اور لبنان میں جنگ بندی بہت ضروری ہے تاکہ اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کا سلسلہ بند ہو سکے۔آخر میں، خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ، عمران خان کی رہائی کے لیے پاکستان پر دباؤ نہیں ڈالے گا، کیونکہ امریکہ میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے، جو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ مضبوط ہے اور اس کے مفادات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔