پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا خودحل نکالے نمائندہ ورلڈ بینک ترقی کیلئے پارلیمانی رابطے ضروری ہیں ایازصادق

کلائمیٹ فائنانس خیرات نہیں، قانونی اور اخلاقی حق ہے جو ادا کرنا چاہئے،جسٹس منصور علی‘ اقوام متحدہ آلودگی پھیلانے والے ممالک پر  ٹیکس عائد کرے، احسن اقبال‘  بھارت کیساتھ بات چیت شروع کر دی:مریم اورنگزیب‘عالمی موسمیاتی کانفرنس سے خطاب
پہلا انٹرو
 اسلام آباد(آئی این پی ) نمائندہ ورلڈ بینک نے کہا ہے  پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کو حل کرنے میں لیڈ کرنا چاہیے۔بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس کے  دوسر ے روز   خطاب کرتے ہوئے نمائندہ ورلڈ بینک کا کہنا تھا  پاکستان اپنی جی ڈی پی کا سالانہ 9 فیصد نقصان موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کررہا ہے جبکہ اپنی جی ڈی پی کا 6 فیصد نقصان اربن ٹرانسپورٹ کی وجہ سے برداشت کررہا ہے، موسمیاتی تبدیلیاں غریب لوگوں کا مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار ہے اور نہ ہی پاکستان کی وجہ سے لاس اینجلس میں آگ لگی ، پاکستان کو باہر کی دنیا کا انتظار نہیں کرنا چاہیے خود مسائل کا حل نکالنا چاہیے،،جسٹس منصور علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا موسمیاتی تبدیلیوں کے حل کے لیے ایڈپٹیو جورسپوڈنس پر توجہ دینا ہوگی، اس کے بعد آزاد اور قابل عدلیہ کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ نیچر فائنانس کی طرف جانا ہوگا اور ساتھ ہی کلائنٹ سائنس کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں خود اپنے مقامی حل پر جانا ہوگا کیونکہ باہر سے دنیا نہیں آئے گی جو ہمارے مسائل حل کرے،  وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تجویز دی  اقوام متحدہ آلودگی پھیلانے والوں پر کسی نہ کسی طرح کا عالمی ماحولیاتی ٹیکس عائد کرے  اور اس ٹیکس کی رقم سے ایک ایسا فنڈ ہونا چاہیے جو جنوب کے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھرکو موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات لاحق ہیں، حکومت موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل پر خصوصی توجہ دے رہی ہے‘مریم اورنگزیب نے اپنے کلیدی خطاب میں گزشتہ 12 ماہ کے دوران پنجاب کے آب و ہوا کے تجربات پر بات کی، انہوں نے جنوبی پنجاب میں شدید سیلاب، ہیٹ ویو، ہوا کے مضر صحت معیار اور پانی کی قلت پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں پنجاب بھر میں آب و ہوا کی لچک کے لیے ایک جامع، مربوط اور کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب نے اپنی پہلی موسمیاتی پالیسی موافقت اور تخفیف کو مدنظر رکھ کر مرتب کی ہے ، ماحولیاتی انصاف اس پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے، اسموگ کے خاتمے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے منصوبوں کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے اور وزارت خارجہ کو خط لکھا ہے کہ وہ خطے کے ان ممالک کے ساتھ بات چیت شروع کرے جن کا فضائی معیار پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔