افضال
میرے نقطہ نظر سے ایک بہت اچھی ڈیل کی گئی ہیے اور انوسٹمنٹس بھی بغیر انوسٹمنٹس کے ہو گئی جس میں گورنمنٹ حصہ دار ہو گی۔۔۔ اور سالانہ اربوں کا نقصان بھی ختم ہو جائے گا۔۔۔
پی آئی اے سے متعلق بحث میں اکثریہ تو بتایا جاتا ہے کہ پی آئی اے کے قرضے حکومت نے ہولڈنگ کمپنی بنا کر اس کے کھاتے میں ڈال دیئے، یہ ہولڈنگ کمپنی اب بھی حکومت کی ملکیت ہے، چنانچہ یہ قرضے حکومت کو دینے ہوں گے۔یہ بات بالکل درست ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ پی آئی اے کے رئیل اسٹیٹ ایسٹس بھی ہولڈنگ کمپنی کو دے دئے گئے ہیں، جن میں پی آئی اے کے تمام غیر ملکی اثاثے اور پشاور، اسلام اباد اور کراچی میں موجود رئیل اسٹیٹ ایسٹس شامل ہیں۔ ان سب اثاثوں کی مالیت پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا قرضوں سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف روزویلٹ ہوٹل کی مالیت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جو کہ اب اس ہولڈنگ کمپنی کی ملکیت ہے، جس نے پی آئی اے کے قرضے اتارنے ہیں۔ اس لئے یہ سارا قرض ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ڈال کر پی آئی اے کے اثاثے بھی ہولڈنگ کمپنی کو دے دینا، میرے نزدیک انتہائی اچھی فائنانشل منیجمنٹ ہے
اب دیکھتے ہیں اس معاملے کو کہ کہ پی آئی اے بکی تو 135 ارب میں لیکن حکومت کو صرف 10 ارب ملے۔ اس کو ایسے انٹرپرٹ کیا جاتا ہے گویا حکومت نے صرف 10 ارب میں فروخت کر دیا۔ جب درحقیقت یہ رقم حکومت کی پی آئی اے میں انویسٹمنٹ ہے اور حکومت اس رقم میں پرافٹ کی حقدار ہو گی، میرے خیال میں یہ بھی ایک عمدہ فیصلہ ہے۔ خریدار کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے انویسٹ کئے جانے والے 125 ارب کے ساتھ اپنی طرف سے 80 ارب پی آئی اے کے فلیٹ کو اپ گریڈ کرنے میں خرچ کرے۔ اس طرح مجموعی طور پر 200 ارب سے زیادہ کی رقم پی آئی اے کے فلیٹ اور انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے میں استعمال ہو گی، اس رقم سے فلیٹ میں ہونے والی وسعت سرپلس سٹاف کے بوجھ کو ایڈجسٹ کر لے گی، اور پی آئی اے کو منافع بخش بنا دے گی، اور حکومت اس منافع میں نمایاں حصہ حاصل کرے گی۔ 25 فیصد کی تو حکومت ابھی بھی مالک ہے، اور اس کے علاوہ 125 ارب کی اکوٹی پر پرافٹ میں بھی حصہ دار ہو گی، اس طرح حکومت امید ہے کہ 20 سے 35 ارب کا منافع سالانہ حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گی
ایک ایسا ادارہ جو سالانہ حکومت سے 50/60 ارب خرچ کرواتا ہے، اسے تو جیب سے پیسے دیکر فارغ کر دینا چاہئے، جیسا کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ پی آئی اے کو ایک روپے میں بیچ دینا چاہئے۔ اگر مفت میں بیچنے کی بجائے آپ کو سالانہ بھاری منافع ملنا شروع ہو جائے تو اور کیا چاہئے؟
یاد رکھیں کہ جو 125 ارب حکومت وصول کرنے کی بجائے پی آئی اے میں ری انویسٹ کر رہی ہے، وہ بھی پی آئی اے کے شیئر ہی ہیں، اور حکومت ان کو مستقبل میں فروخت کر کے پیسے کما سکتی ہے۔
بہر حال اصل حاصل یہ ہے کہ حکومت ایک ایسے کام میں الجھی ہوئی تھی جو اس کے بنیادی فنکشنز میں شامل ہی نہیں ہے، اب حکومت نے اس سے ہاتھ کھینچ لیا اور ان کے سپرد کر دیا جن کے سپرد ہونا چاہئے، تو میرے نزدیک یہ فائنانشل مینیجمنٹ کی ایک اچھی مثال ہے
یہ میری ذاتی رائے ہے، اور آپ کو اختلاف کا حق حاصل ہے، بس طنز کی بجائے سلیقے سے اختلافی رائے دیجئے اور ضرور دیجئے