اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے معاملے پر سخت ریمارکس دیے ہیں اور اس پر تحقیقاتی معاونت طلب کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک شہری نے سیشن اور ایڈیشنل سیشن ججز کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی، جس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیشن ججز اتنا بڑا اور اہم آرڈر کیسے جاری کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا، “مجھے تو حیرت ہے کہ اتنا بڑا آرڈر سیشن ججز کیسے دے دیتے ہیں؟ سمجھ نہیں آتی کہ سیشن ججز شناختی کارڈ بلاک کیوں کر رہے ہیں۔”چیف جسٹس نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ عدالت کو اس معاملے میں مکمل معاونت فراہم کریں اور وضاحت کریں کہ کس قانونی اختیار کی بنیاد پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدالت نے سماعت کے دوران معاملے کی مزید تحقیق کے لیے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی اور سماعت ملتوی کر دی۔ماہرین کے مطابق، شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنا ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ یہ بنیادی شناخت اور قانونی دستاویزات سے متعلق حقوق کو متاثر کرتا ہے، اور عدالت کی جانب سے اس معاملے پر سخت موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات قانونی دائرہ کار کے اندر ہونے چاہئیں۔