ریپر اور گلوکار بادشاہ کے نئے گانے ’ٹیٹیری‘ کے بول اور ویژولز پر شدید تنقید شروع ہوئی۔
گانے میں دکھائے جانے والے مناظر اور بول کو خواتین کی عزت اور وقار کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا، جس کے بعد یہ تنازعہ ثقافتی اور سماجی بحث میں بدل گیا۔
واقعے کی تفصیلات:
گانے کی ریلیز کے بعد نیشنل کمیشن فار ویمین (NCW) نے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے بادشاہ اور اس سے وابستہ افراد کو طلب کیا۔ کمیشن نے کہا کہ گانے نے خواتین کی شائستگی اور وقار کو مجروح کیا ہے۔
بادشاہ کی کارروائی:
بادشاہ نے کمیشن کے سامنے پیش ہو کر غیر مشروط معافی مانگی۔ اس کے بعد یہ گانا تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ خواتین کے حقوق اور بااختیار بنانے کے لیے مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں گے، اور 4 ماہ کے اندر خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا گانا پیش کریں گے۔
سماجی اور تعلیمی اقدامات:
بادشاہ نے کہا کہ وہ کمزور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والی 50 لڑکیوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کریں گے۔
پروجیکٹ ٹیم کی معافی:
گانے کے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز نے بھی تحریری معافی جمع کروائی اور ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
حکومتی اقدامات:
حکام نے سوشل میڈیا سے اس گانے کے سینکڑوں لنکس ہٹانے کے لیے اقدامات کیے تاکہ عوامی حساسیت کا خیال رکھا جا سکے۔یہ واقعہ بھارت میں میڈیا اور عوام میں خواتین کے وقار کے تحفظ پر حساسیت اور عوامی ردعمل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ بھی کہ مشہور شخصیات کی ذمہ داری صرف فن تک محدود نہیں بلکہ سماجی شعور کے فروغ تک بھی ہے۔