وزیر اعظم شہباز شریف دو ہفتے کیلئے جنگ بندی کی تجویز امریکی صدر کو قبول کر لی ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ

 پاکستان  سفارتی  کوششیں  کا میا ب   ایران اور امریکا جنگ بندی  میں توسیع  

 نئے سپر یم لیڈر نے سیز فائر کی منظوری دی،ٹرمپ نے ایران کی شرائط مان لیں:ایرانی میڈیا ، ایران کیساتھ ماضی کے بیشتر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا : امریکی صدر،سرائیل نے ایران پر بمباری روک دی : وائٹ ہائوس ،10 اپریل سے باقاعدہ  مذاکرات کا آغاز
اسلام  آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان  کی کوششیں رنگ لے   آئیں،وزیر اعظم  شہباز شریف اور فیلڈ مارشل  جنرل سید عاصم منیر، اسحق ڈار کی کاوشوں سے ایران اور امریکا میں  دو ہفتے کیلئے جنگ بندی  میں توسیع  کردی، 10 اپریل سے باقاعدہ  مذاکرات کا   آغاز ہوگا ایران نے پاکستان کی دو ہفتے کی جنگ بندی  کی تجویز کو قبول کرلیا امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کی دو ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرلیا، سیز فائر کی منظوری نئے سپریم لیڈر نے دی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نیجنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط مان لیں، صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی بندی کا اعلان کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی جانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کرلیا۔ ایران پر بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامند ہوں، بمباری اورحملے معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو 2 ہفتوں کیلئے مو?خر کر دیا گیا ہے اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی نافذ رہے گی۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا جنہوں نے ایران کے خلاف فوری کارروائی مو?خر کرنے کی درخواست کی تھی۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ جنگ بندی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ ایران  آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ انداز میں کھولنے پر  آمادہ ہو جائے، اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور دیرپا امن کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے، ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی منصوبے کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔ن کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے بیشتر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی یہ مہلت حتمی معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد دے گی۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ بطور امریکی صدر اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ایک اعزاز ہے، امید ہے کہ جلد ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے گاامریکا کے صدر کی حیثیت سے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی طرف سے بھی، یہ ان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے کہ اس طویل مدتی مسئلے کو حل ہونے کے قریب پہنچا دیا گیا ہے۔وائٹ ہاو?س کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔وائٹ ہاو?س کے عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل نے ایران پر بمباری روک دی ہے اور وہ بھی مذاکرات میں شامل ہوگا۔