ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے کی اراضی پر قبضے

 870 کنال اراضی پر قبضہ ہوچکا ،بیشتر مواضع پر دوبارہ تعمیرات 
لاہور (خصوصی رپورٹ)موجودہ دور اقتدار میں بھی پنجاب حکومت کی ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے منصوبہ پر کوئی پالیسی نہ آسکی۔ ایل ڈی اے کی نئی انتظامیہ بھی ایلی ویٹیڈ ایکسپریس وے پر خاموش ہے ، اربوں روپے مالیت سے ایکوائر ہونے والی ایکسپریس وے کی زمین کا کوئی پرسان حال نہیں،منصوبے پر کوئی کام شروع نہ ہوامگر مافیا سرگرم ہوگیا۔ذرائع کے مطابق منصوبے کی تعمیر کیلئے ایکوائر کی گئی سوا 6 ارب روپے کی اراضی پر قبضوں کا انکشاف ہوا ہے۔ منصوبے کے لئے گلبرگ مین بلیووارڈ سے موٹر وے پل تک 870 کنال اراضی پر قبضہ ہوچکا ہے۔ موضع اچھرہ ، مزنگ ، نواں کوٹ، شیراکوٹ ، نوناریاں، بھدرو کی 870 کنال اراضی 2015 میں ایکوائر کی گئی۔ اراضی کا ایوارڈ سنانے اور سوا چھ ارب روپے کی ادائیگی کرکے منصوبہ بند کر دیا گیا۔ ایل ڈی اے نے پیسے دینے کے بعد بھی قبضہ حاصل نہیں کیا۔ اس منصوبے پر ایل او ایس نالے کی تعمیر کے دوران ایک ارب ستر کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ایکسپریس وے کے بیشتر مواضع پر دوبارہ پختہ تعمیرات ہوچکی ہیں ،نوناریاں اور بھدرو میں ایکوائر کی گئی اراضی سیلاکھوں مالیت کی ریت اور مٹی چوری کی جاچکی ہے۔ اراضی کا معاوضہ لینے کے باوجود قابضین تاحال ایکوائر شدہ اراضی پر موجود ہیں۔