اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی شہرت سے لوگ خائف ہیں اور کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 2022 میں بھی ہم نے بانی پی ٹی آئی کو بات چیت کے لیے آمادہ کیا اور تب سے اب تک وہ ہمیشہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھتے ہیں، تاہم اس بات کو کسی ڈیل سے منسلک نہ کیا جائے۔اعظم سواتی نے کہا کہ ان کے قائد عمران خان ہمیشہ ہشاش بشاش رہتے ہیں اور ان پر کوئی دباؤ ڈال کر انہیں ڈیل کرنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ یہ بڑے پن کی نشاندہی کرتی ہے۔دوسری جانب سینیٹر شبلی فراز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اعظم سواتی کے بیان پر ردعمل دینے کے لیے پارٹی کا پلیٹ فارم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں اور یہ باتیں میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پارٹی میں سیاست کرنے والے تمام افراد بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے سیاست کر رہے ہیں اور ان کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہمیشہ ثابت قدم رہا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے کبھی بھی کسی ڈیل کی طرف نہیں بڑھا۔
شبلی نے مزید کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں حکومت عوام کی حمایت سے باہر ہے اور اس وقت ملک میں بدامنی اور مہنگائی عروج پر ہے۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب نے کہا کہ اعظم سواتی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کے حوالے سے ان کے علم میں کچھ نہیں ہے، اور اگر کوئی ہدایات دی گئی ہیں تو وہ درست ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام پارٹی رہنما سیاسی قیدی ہیں۔عمر ایوب نے کہا کہ نو مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کے حوالے سے کئی سوالات اٹھتے ہیں، اور یہ بھی کہ پولیس اور چھاونی کی سیکیورٹی کہاں تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور ورکرز پر مقدمات ہونے سے پارٹی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ادھر انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے عمر ایوب کے 8 مقدمات میں 5، 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض 29 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔