یورپی یونین نے امریکا کو صنعتی مصنوعات پر زیرو ٹیرف معاہدے کی پیشکش کی ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی یورپی یونین نے جوابی اقدامات کی تیاری بھی مکمل کر لی ہے۔
یورپی وزرائے تجارت کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسیوں پر تفصیل سے غور کیا گیا اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے جوابی ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔یورپی ٹریڈ کمشنر کے مطابق، 9 اپریل کو یورپی پارلیمنٹ میں جوابی ٹیرف پر ووٹنگ ہوگی اور 15 اپریل تک حتمی فہرست کی منظوری کے بعد ٹیرف نافذ کر دیے جائیں گے۔ امریکا نے پہلے ہی اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر 416 ارب ڈالر سے زائد کے ٹیرف عائد کر رکھے ہیں۔ یورپی یونین نے تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکی صنعتی مصنوعات اور گاڑیوں پر دوطرفہ صفر محصولات کی پیشکش کی ہے۔اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو یورپی یونین مزید جارحانہ اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
یورپی یونین اب تک امریکی مصنوعات پر 28 ارب ڈالر کے جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان کر چکی ہے۔ علاوہ ازیں، امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپی شراب پر 50 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی تو وہ یورپی شرابوں پر 200 فیصد ٹیرف لگا دیں گے، جو کہ فرانس اور اٹلی جیسے شراب برآمد کرنے والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں 2024 میں 582 ارب ڈالر کی یورپی برآمدات اور 366 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات ہوئی ہیں، جس سے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔