ٹرینوں کو خود مانیٹر کروں گا، تین ماہ میں ٹرینوں کی باقاعدگی 90 سے 95 فیصد تک لائی جائے‘مال گاڑیوں سے ریونیو حاصل کیا جائے
ایم ایل ون پر انجینیئرنگ ریسٹرکشنز کے خاتمے کیلئے ایک سال کا ٹاسک‘بکنگ آن لائن کر کے انسانی مداخلت ختم کی جائے:وزیرریلوے
لاہور(سپیشل رپورٹر)وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایم ایل ون پر انجینیئرنگ ریسٹرکشنز کے خاتمے کے لیے ایک سال کا ٹاسک دے دیا، ریسٹرکشنز کے خاتمے سے ٹرینوں کا سفری دورانیہ کم ہوگا۔ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور میں وزیر ریلوے کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں ریلوے انفرا اسٹرکچر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ڈویڑنز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر ریلوے نے ہدایت کی کہ ایم ایل ون پر سفری دورانیہ کم کرنے کیلیے اقدامات کیے جائیں۔حنیف عباسی نے کیماڑی حیدرآباد سیکشن پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریک بحالی کے پراجیکٹس پر کام تیز کیا جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر چھ ماہ میں سلیپر تیار کر کے دیں، انتظامیہ دو سال کا پراجیکٹ ایک سال میں کرے اور سال کے آخر تک چار ٹیمپنگ مشینیں قابلِ استعمال بنائی جائیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب میں تین سال کے منصوبے ایک سال میں مکمل کر کے دکھائے، ریلوے انتظامیہ ان کے ماڈل کی پیروی کرے۔ انہوں نے ہدایت کی مال گاڑیوں سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جائے اور لیکج روکی جائے۔وزیر ریلوے نے کہا کہ مسافر ٹرینوں کی آن لائن بکنگ کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے فریٹ ٹرینوں کی بکنگ آن لائن کر کے انسانی مداخلت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر نے ریلوے کالونیوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی لسٹ مانگ لی جبکہ غیر متعلقہ افراد اور ریٹائرڈ افسران کی ریلوے ریسٹ ہاؤسز میں رہائش پر مکمل پابندی لگا دی۔وزیر ریلوے نے تین ماہ میں ٹرینوں کی باقاعدگی 90 سے 95 فیصد تک لانے کا ٹاسک دیا ہے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ ٹرینوں کی باقاعدگی خود مانیٹر کروں گا، منسٹر سمیت کسی شخص کے لیے ٹرین لیٹ نہیں ہوگی۔انہوں نے ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی اور کھانے کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔