ویانا: آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکولوں میں حجاب اور برقع پہننے پر پابندی کا نیا قانون نافذ کردیا گیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق نئے قانون کا اطلاق آسٹریا کے تمام اسکولوں پر ہوگا، جس کے تحت 14 برس سے کم عمر طالبات کے لیے ایسا لباس ممنوع قرار دیا گیا ہے جس سے سر اور چہرہ ڈھانپا جاتا ہو۔رپورٹس کے مطابق یہ قانون قدامت پسندوں کی قیادت میں قائم تین جماعتی مخلوط حکومت نے متعارف کرایا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق قانون کا مقصد کم عمر طالبات کے تحفظ اور اسکولوں میں انضمام کو یقینی بنانا ہے۔تاہم نئے قانون کو قانونی اور آئینی چیلنج کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ آسٹریا کی عدالت اس سے قبل 2020 میں پرائمری اسکولوں میں حجاب پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو منسوخ کرچکی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق نئے قانون کی آئینی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور امکان ہے کہ اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے۔قانون کے نفاذ کے بعد آسٹریا میں کم عمر طالبات کے مذہبی لباس سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔