آسٹریا نے ایک جدید اور منفرد منصوبہ شروع کیا ہے جس میں بجلی کے روایتی کھمبوں کو فن، فطرت اور انجینئرنگ کے حسین امتزاج میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اس نئے تصور کے تحت، بجلی کے بلند و برقی کھمبوں کو دیو ہیکل جانوروں کی شکل میں ڈھالا جا رہا ہے تاکہ یہ نہ صرف ایک بنیادی انفراسٹرکچر کا حصہ ہوں بلکہ ایک ثقافتی اور سیاحتی علامت بھی بن سکیں۔اس منصوبے کا نام ’’دی آسٹرین پاور جائنٹس‘‘ ہے، جس میں آسٹریا پاور گرڈ (APG) اور معروف ڈیزائن فرم میسل آرکیٹیکٹس مل کر کام کر رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر دو مجسماتی کھمبے تیار کیے گئے ہیں۔ ایک پرندہ ’’اسٹارک‘‘ کی شکل میں، جو برجن لینڈ کے مہاجر پرندوں کی علامت ہے، اور دوسرا ’’سٹیگ‘‘ بارہ سنگھا ہرن کی صورت میں، جو زیریں آسٹریا کے سرسبز پہاڑی جنگلات کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ مجسمے نہ صرف فنی خوبی کا مظاہرہ ہیں بلکہ ماحول دوست اور فطرت سے ہم آہنگ بھی ہیں۔ان کھمبوں کی ساخت اور برقی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آزمائشی مراحل سے گزر رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ سخت موسمی حالات میں بھی مؤثر کام کریں۔ اس کے علاوہ، ان کے نمونے سنگاپور کے ریڈ ڈاٹ میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں، اور یہ ڈیزائن ریڈ ڈاٹ ایوارڈ 2025 بھی حاصل کر چکا ہے، جو الیکٹریفیکیشن اور ڈیکاربونائزیشن کیٹیگری میں دیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف بجلی کی ترسیل کے نظام کو فطرت کے قریب لانا ہے بلکہ اس سے مقامی سیاحت کو فروغ ملنے، ماحول دوست انفراسٹرکچر کو تقویت دینے اور عوام میں توانائی کے منصوبوں کے لیے مثبت تاثر پیدا کرنا ہے۔ آسٹریا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ جانور نما کھمبے ماحول دوست اور خطے کی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے، بجلی کے نیٹ ورک کو علاقائی شناخت کے ساتھ جوڑیں گے۔آئندہ مرحلے میں، ہر ریاست کے لیے مخصوص جانوروں کے ڈیزائن تیار کیے جائیں گے تاکہ ہر علاقے کی ثقافت اور قدرتی خصوصیات کی عکاسی کی جا سکے۔ یہ منفرد اور دلچسپ منصوبہ امید رکھتا ہے کہ مستقبل میں یہ بجلی کے کھمبے نہ صرف توانائی کی فراہمی کا ذریعہ ہوں گے بلکہ سیاحتی اور علامتی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوں گے، اور اس طرح فطرت اور ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج آئندہ نسلوں کے لیے ایک مثال بنے گا۔