جرمنی کے سابق انٹیلیجنس سربراہ غداری کے الزامات پر گرفتار

جرمنی کے سابق انٹیلیجنس سربراہ غداری کے الزامات پر گرفتار

برلن: جرمنی کے سابق غیر ملکی انٹیلیجنس ادارے ’بی این ڈی‘ کے سربراہ اگست ہیننگ کو جاسوسی، ریاستی راز حاصل کرنے اور غداری کی کوشش کے شبے میں گرفتار کرلیا گیا۔

جرمن وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق اگست ہیننگ نے 1998 سے 2005 تک BND کی سربراہی کی تھی اور عہدہ چھوڑنے کے بعد نجی شعبے میں سکیورٹی کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔حکام کا الزام ہے کہ ہیننگ نے ایک غیر ملکی خفیہ ادارے کے لیے تجزیہ تیار کرنے کی غرض سے خفیہ معلومات استعمال کیں اور ایک غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کے اہلکار سے رابطے میں بھی رہے۔ تاہم جرمن حکام نے تاحال مبینہ طور پر ملوث غیر ملکی ادارے کا نام ظاہر نہیں کیا۔اس کیس میں ایک سابق BND اہلکار مینفریڈ ڈی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق وہ ہیننگ کے سابق چیف آف اسٹاف تھے اور بعد میں بھی BND میں اہم عہدے پر کام کرتے رہے، جس کے باعث انہیں حساس معلومات تک رسائی حاصل تھی۔پراسیکیوٹرز کے مطابق مینفریڈ ڈی نے کئی برسوں کے دوران رقم کے عوض ہیننگ کو تقریباً 2 ہزار خفیہ دستاویزات فراہم کیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں انتہائی حساس معلومات بھی شامل تھیں، جبکہ بعض دستاویزات میں ایران کے جوہری پروگرام اور روسی فوج سے متعلق معلومات موجود تھیں۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ہیننگ نے مبینہ طور پر ان معلومات کو اپنی نجی مشاورتی سرگرمیوں میں استعمال کیا اور کم از کم ایک مرتبہ انہی معلومات کی بنیاد پر ایک غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کے لیے سکیورٹی تجزیہ بھی تیار کیا۔جرمن میڈیا کے مطابق ہیننگ کو مغربی جرمنی کے شہر منسٹر کے قریب نورڈوالڈے میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ مینفریڈ ڈی کو ریاست باویریا سے حراست میں لیا گیا۔ دونوں سے متعلق مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔رپورٹس کے مطابق معاملے کا سراغ ایک دوسری تفتیش کے دوران ملا۔ 2025 میں ایک الگ کیس کے سلسلے میں ہیننگ کے گھر اور دفاتر کی تلاشی کے دوران ایک الیکٹرانک ڈیوائس سے BND کی انتہائی خفیہ دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔ بعد ازاں یہ مواد وفاقی حکام کے حوالے کیا گیا اور مئی 2026 میں ہیننگ اور مینفریڈ ڈی کے خلاف خفیہ تحقیقات شروع کی گئیں۔

حکام کے مطابق دونوں افراد کے خلاف الزامات ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور جرم ثابت ہونا باقی ہے۔ اگر الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو یہ جرمنی کے انٹیلیجنس ادارے کے لیے ایک انتہائی سنگین معاملہ تصور کیا جاسکتا ہے۔