خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کے خلاف شہریوں کا احتجاج، سڑکوں پر نکل آئے

خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کے خلاف شہریوں کا احتجاج، سڑکوں پر نکل آئے

پشاور: خیبرپختونخوا میں مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں شہریوں نے صوبائی حکومت سے بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

مالاکنڈ کی تحصیل درگئی میں متحدہ ٹریڈ یونین اور پیپلزپارٹی کی جانب سے مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ مظاہرے میں متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر اسفند یار خان، جنرل سیکرٹری غلام حسین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے ٹائر جلا کر مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی صورتحال کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاجی شرکا نے صوبائی حکومت سے خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل سنگین صورتحال اختیار کرچکے ہیں، جبکہ عوام بنیادی سہولیات کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب صوابی، تخت بھائی، رستم سمیت مختلف علاقوں کے شہریوں نے بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو خیبرپختونخوا میں 13 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم ان کے مطابق عوام کی توقعات کے مطابق تبدیلی نظر نہیں آئی۔شہریوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے اسپتالوں میں طبی سہولیات کا فقدان ہے جبکہ انفراسٹرکچر بھی مختلف مسائل کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو بنیادی مسائل کے حل اور عوامی مشکلات کے ازالے پر توجہ دینی چاہیے۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت مہنگائی، بے روزگاری، امن و امان، صحت اور انفراسٹرکچر سمیت بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔