افغانستان میں یکے بعد دیگرے دو زلزلے محسوس کیے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 اور 4.5 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) کے مطابق پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3:20 پر آیا، جس کی شدت 4.5 اور گہرائی 100 کلومیٹر تھی۔ اس کے 15 منٹ بعد دوسرا زلزلہ آیا، جس کی شدت 4.2 اور گہرائی 150 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ تاہم، اب تک کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
افغانستان میں زلزلے کا پس منظر
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق، افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی آفات بشمول زلزلے، موسمی سیلاب، اور لینڈ سلائیڈنگ کے لیے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ریڈ کراس کے مطابق، افغانستان میں زلزلے عام ہیں کیونکہ یہ ملک ہندوستانی اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان واقع ہے، جہاں کئی فالٹ لائنز موجود ہیں۔ ہندوکش پہاڑی سلسلہ ارضیاتی طور پر ایک فعال علاقہ ہے اور یہاں ہر سال متعدد زلزلے آتے ہیں۔
پاکستان بھی زلزلے کے خطرے سے دوچار
ماہرین کے مطابق، پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر واقع ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام علاقے زلزلوں کی زد میں آتے ہیں، جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو سب سے زیادہ حساس قرار دیا جاتا ہے۔پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے، جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ لاکھوں سالوں سے جاری اس جغرافیائی عمل کے نتیجے میں یہاں زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک بار شدید زلزلہ آچکا ہو، وہاں مستقبل میں بھی زلزلے آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔