اس بار غلط فیمی ایسی دور ہوگی پھر ملک میں مارچ نہیں ہوگا، حکومت نے نمٹنے کے لئے سیاسی اور آئینی سمیت تمام تر تدابیر مکمل کر لی ہیں ،ٹی ایل پی ہو یا کوئی اور، اب کوئی نان سینس نہیں ہوگی :وزیرمملکت
مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک ہیں، کوئی مثبت قدم نہیں لیا جاتا، ہم پہلے بھی نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھے، حکومت نے فراخدلی اور سنجیدگی نہیں دکھائی :چیئرمین پی ٹی آئی
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلی خیبرپختونخوا کی آخری وقت میں شرائط مذاکرات کی ناکامی کا باعث بنیں، اس وقت اپوزیشن کے مذاکرات کار ہم سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے تھے،اپوزیشن بہت سے حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے، انہوں نے جان بوجھ کر اس اہم عمل کو نتیجہ خیز نہیں بننے دیا، اس دفعہ ان کی جو غلط فہمی نکلے گی، اس کے بعد ملک میں مارچ نہیں ہوگا کیونکہ حکومت نے اس سے نمٹنے کے لئے سیاسی اور آئینی سمیت تمام تر تدابیر مکمل کر لی ہیں۔پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں شامل اپوزیشن کے لوگ اپنی پارٹی اور سوشل میڈیا کی تنقید کے زیر اثر آتے ہیں۔ مذاکرات کے پہلے دن حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ پہلے دن اس معاملے پر اتفاق ہوا اور دہشت گردی سے متعلق نکات پر بات ہوئی۔ مذاکرات میں شامل کچھ لوگوں نے وزیراعلی خیبرپختونخوا سے جاکر بات کی اور اگلے روز ٹیم واپس آئی۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن بات چیت شروع ہونے سے قبل وزیر داخلہ نے فون کرکے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا ایک شخص مذاکرات میں لے کر آئیں، تاہم مذاکرات کاروں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ہم پر اعتماد ہے۔ پہلے دن کی بات چیت کے بعد اپوزیشن رہنما پشاور گئے۔ ہمیں رات کو یقین دلایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق کرتی ہے، جس کے بعد وزیراعظم نے وزیر داخلہ سے کہا کہ اپوزیشن کو جتنی سیاسی اسپیس دی جاسکتی ہے، دی جائے۔طلال چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ملک کی بہتری چاہیے، خواہ اس سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر 100 فیصد تعاون چاہیے۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر ڈالنا بالکل غلط ہے۔ مذاکرات کے ایک دو اور راؤنڈ ہوتے تو معاملہ کہیں پہنچ جاتا۔راولپنڈی میں پارٹی رہنما سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملبہ ایک دوسرے پر نہ ڈالا جائے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کی پیشکش برائے نام ہے، مذاکرات کی صرف پیشکش کی حد تک کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ مذاکرات ایک مسلسل عمل ہے، اس کے لیے کوئی ٹائم نہیں ہوتا۔ ہم مذاکرات کے دوران کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے رہے۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور جو مطالبات پیش کیے وہ آئین و قانون کے دائرے میں تھے، لیکن حکومت نے فراخدلی یا سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، اگر مذاکرات کے مزید ایک دو راؤنڈز ہو جاتے تو معاملہ کسی مثبت نتیجے پر پہنچ سکتا تھا، ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو لانگ مارچ کو روکے جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے سے نفرتیں مزید بڑھیں گی۔