ثمر عباس لنگاہ
کائنات کے رموزِ قدرت میں جہاں فضائیں اپنی رعنائیوں سے ہمیں لطف اندوز کرتی ہیں، وہیں بعض اوقات یہی فضائیں ہمیں مایوسی اور بے چینی کے مناظر سے روبرو کروا دیتی ہیں۔ سردیوں کی دھند ہو یا سموگ کی زہر آلود تہیں، یہ دونوں ایک خوفناک حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔ جو فطرت اور انسان کے مابین نازک توازن کو بگاڑ رہے ہیں۔ آج، جب ہم سموگ اور فوگ کے ان ظاہری بے ضرر لیکن مہلک بادلوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دیکھتے ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہمارا کردار اس میں کہاں تک ہے؟ کیا یہ فقط موسمی عمل ہے یا ہماری اپنی کوتاہیوں کا شاخسانہ؟
دھند یعنی فوگ کا ذکر کرتے ہوئے دل کے نہاں خانوں میں ایک سرد سا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔ آج سے چند سال قبل دھند کی چادر جیسے اپنے اندر سکون و خاموشی کی کہانیاں بْنتی تھی۔ وہ صبحیں، جب سب کچھ سفیدی کی چادر میں چھپ جاتا اور ہر چیز پراسرار ہو جاتی، ہمیں ایک ناقابلِ بیان خوشی سے خوشی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس خاموش فضاء میں ایک تلخی گھل گئی ہے۔ سموگ نے فضاؤں کو اس قدر بوجھل کر دیا ہے کہ دھند بھی اس زہر میں تحلیل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
یہ دھند نہیں بلکہ وہ سموگ ہے جسے ہم اپنی لاپروائیوں اور ماحول دشمن عادات سے پیدا کر رہے ہیں۔ صنعتی کارخانوں کی دھواں چھوڑتی چمنیاں، گاڑیوں کا بغیر رکاوٹ چلتا ہوا انجن اور جنگلوں کو کاٹنے کی بے پناہ خواہشات، یہ سب وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے ہوا زہر آلود ہو گئی ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی اس سموگ میں مختلف مضر کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل ہمیں اندھیرے میں دھکیل رہے ہے۔
یہ سب انسان کی اپنے آپ سے جنگ کا عکس ہے۔ جہاں ترقی کے نام پر ہم اپنے گرد و نواح کو اپنی ہی زندگی کے لئے خطرناک بنا رہے ہیں۔
اگر ہم قرآن پاک کے فرمودات پر نظر ڈالیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور فساد مت کرو زمین میں بعد اصلاح اس کے۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 56)
یہ سموگ بھی دراصل زمین کے اْس فساد کی نشانی ہے جس کا سبب ہم خود ہیں۔ ہمیں اللہ نے اس زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا ہے۔ مگر ہم نے اپنی خود غرضی اور لالچ سے وہ تباہیاں پیدا کی ہیں جو ہمارے اپنے لئے ہی نقصان دہ بن رہی ہیں۔ آج یہی فضائی آلودگی ہمیں سانس لینے میں دقت پیدا کر رہی ہے اور بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔
دھند اور سموگ کی یہ مشترکہ چادر جو بظاہر ایک حسین موسم کا حصہ لگتی ہے، درحقیقت یہ انسانیت کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اب وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں فطرت کی حفاظت کے لئے اپنی روش بدلنی ہو گی۔ یہ ہمیں یہ باور کرا رہی ہے کہ اگر ہم نے اپنی صنعتوں،
گاڑیوں اور انفرادی سطح پر اپنی زندگی کے معمولات میں توازن نہ قائم کیا تو وہ دن دور نہیں جب ہمیں اسی زہر آلود ہوا میں اپنے خوابوں کو دفن کرنا پڑے گا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے وسائل کو محفوظ رکھنے اور زمین کو دوبارہ تازگی بخشنے کے لئے اقدامات کریں۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو اس کام میں معاونت دینی ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے طرزِ زندگی کو بھی تبدیل کرنا ہو گا۔ درخت لگانا، گاڑیوں کا کم استعمال اور متبادل توانائی کے ذرائع اختیار کرنا جیسے اقدامات ہمیں اس آلودگی سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لئے ایک صاف اور بہتر فضاء چھوڑیں۔ سموگ اور فوگ کی اس دلدل سے نکلنے کے لئے ہمیں اپنے اندر مثبت تبدیلی لانا ہوگی۔
اور ہاں یاد رکھیے تبدیلی راتوں رات نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے۔۔۔ (ثمر عباس لنگاہ)