سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس طارق جہانگیری کے معاملے میں تحریری آرڈر جاری کر دیا ہے۔
جسٹس امین الدین کا آرڈر 5 صفحات پر مشتمل ہے جبکہ جسٹس شاہد بلال نے اضافی 5 صفحات کا نوٹ تحریر کیا۔سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا عبوری حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کو عبوری حکم کے ذریعے عدالتی فرائض انجام دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ عدالت نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ پہلے دفتر کے اعتراضات کا فیصلہ کرے اور مقدمہ قانون کے مطابق آگے بڑھائے۔تحریری آرڈر میں مزید کہا گیا کہ دوران سماعت درخواست گزار سے عدالتی حکم کے دفاع کے بارے میں بھی پوچھا گیا، لیکن درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے ملک اسد کیس کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ پڑھنے کے بعد جسٹس جہانگیری کو عدالتی امور سے روکنے کے حکم کا دفاع نہیں کیا۔
واضح رہے کہ 29 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم معطل کر دیا تھا۔ یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ کے عبوری حکم کے خلاف دائر اپیل پر زیر سماعت تھا۔