ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوجی ترقیاتی حکمتِ عملی ہمیشہ مؤثر، کارگر اور اندرونی پاکستانی ٹیکنالوجی کو شامل کرنے پر مبنی رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں اور کبھی بھی اعداد و شمار یا حقائق چھپانے کی کوشش نہیں کی۔غیر ملکی جریدے بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی ٹیکنالوجی—خواہ وہ مقامی ہو، مشرقی ہو یا مغربی—کے حصول کے لیے تیار رہتا ہے تاکہ ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے تصدیق کی کہ "معرکہ حق" میں ہندوستان پاکستان کا کوئی بھی طیارہ نہیں گرا سکا، جبکہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت اور ہتھیاروں کے مؤثر استعمال کا بھرپور مظاہرہ کیا۔بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہفتہ قبل بیان میں کہا تھا کہ اس جھڑپ کے دوران 7 بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے چینی ساختہ J-10C طیاروں نے رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے متعدد طیارے تباہ کیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستانی ہتھیاروں، خصوصاً چینی پلیٹ فارمز نے مؤثر کارکردگی دکھائی۔بلوم برگ کے مطابق، پاکستان نے اگست میں Z-10ME حملہ آور ہیلی کاپٹر کو اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں شامل کرنے کا اعلان بھی کیا، جبکہ پاکستان چینی ہتھیاروں کے ساتھ امریکی ساختہ F-16 طیارے بھی استعمال کرتا ہے۔