سوڈان میں نادرا کی بڑی کامیابی، 3 کروڑ 60 لاکھ شہریت اور 90 لاکھ قومی شناختی کارڈز جاری:وفاقی وزیر داخلہ

سوڈان میں نادرا کی بڑی کامیابی، 3 کروڑ 60 لاکھ شہریت اور 90 لاکھ قومی شناختی کارڈز جاری:وفاقی وزیر داخلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی سے سوڈان کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابکر سمرہ مصطفیٰ علی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور سوڈان کے درمیان سکیورٹی، داخلی امور، سائبر کرائم اور ادارہ جاتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے سوڈان میں نادرا کی خدمات اور کارکردگی سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نادرا نے سوڈان میں 3 کروڑ 60 لاکھ شہریت کارڈز اور 90 لاکھ قومی شناختی کارڈز جاری کیے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں ایک کروڑ 80 لاکھ پیدائشی سرٹیفکیٹس جبکہ 5 لاکھ ڈیتھ سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان سوڈان میں قیام امن اور تعمیر نو کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر سوڈانی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابکر سمرہ مصطفیٰ علی نے کہا کہ سوڈان سائبر کرائم کے شعبے میں پاکستان کی مہارت اور تجربے سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس شعبے میں پاکستانی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سائبر کرائم سے نمٹنے، داخلی سکیورٹی کے معاملات اور متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سائبر کرائم تعاون کے لیے ایم او یو پر دستخط کرنے کا فیصلہ

پاکستان اور سوڈان نے دوطرفہ سائبر کرائم تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ اس معاہدے کے تحت سائبر جرائم کی روک تھام، معلومات کے تبادلے اور متعلقہ اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور وفود شریک تھے۔بعد ازاں پاکستانی اور سوڈانی وفود کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا، جس میں سکیورٹی، داخلی امور اور دیگر باہمی دلچسپی کے معاملات پر تعاون کو عملی شکل دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔