ایران کے ساتھ جنگ نہیں ہو رہی، پانچ ماہ میں کوئی ہلاک نہیں ہوا، ٹرمپ کا حیران کن دعویٰ

ایران کے ساتھ جنگ نہیں ہو رہی، پانچ ماہ میں کوئی ہلاک نہیں ہوا، ٹرمپ کا حیران کن دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور فوجی محاذ آرائی کو جنگ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے میں نمایاں پیش رفت کرچکا ہے اور اب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل حاصل کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران کے معاملے میں بہت پیش رفت کی ہے اور موجودہ صورت حال کو جنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا، اس لیے اسے جنگ کہنا درست نہیں ہوگا۔امریکی صدر نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ جنگ نہیں ہے۔ جب پانچ ماہ تک کوئی زخمی یا ہلاک نہ ہوا ہو تو اسے جنگ نہیں کہا جاسکتا۔‘‘

ایران کے معاملے پر امریکی مؤقف
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب ایران کے معاملے میں پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے اور جنگ سے قبل کے مقابلے میں زیادہ تیل حاصل کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ تیل کے حصول میں اضافے سے ان کی مراد کون سے ذرائع یا مخصوص اقدامات ہیں۔

فوجی کارروائی کے امکانات پر غور
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایران پر نئے فضائی حملوں سمیت ممکنہ فوجی اقدامات پر غور کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ایک جانب ٹرمپ موجودہ صورت حال کو جنگ تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں، تو دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور امریکی انتظامیہ کے سامنے فوجی کارروائی کے مختلف امکانات زیرِ غور ہیں۔

پانچ ماہ میں جانی نقصان نہ ہونے کا دعویٰ
ٹرمپ نے اپنے بیان میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کسی شخص کے زخمی یا ہلاک نہ ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ مدت کس مخصوص فوجی کارروائی یا محاذ آرائی سے متعلق ہے۔