کیف: یوکرین کے وسطی علاقے دنیپروپیٹروفسک میں روسی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں بجلی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جس کے باعث دو لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق بجلی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بعد بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوکرینی فضائیہ نے بتایا ہے کہ روس نے رات کے وقت ملک کے مختلف علاقوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں دنیپرو شہر اور اس کے گردونواح میں بجلی کی فراہمی بڑے پیمانے پر معطل ہوگئی۔متعلقہ بجلی کمپنی کے مطابق گرڈ آپریٹر نے دنیپرو شہر، اس کے نواحی اضلاع اور پاولوہراد کے بعض علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ روسی حملوں سے توانائی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔کمپنی کے مطابق توانائی کے شعبے کے کارکن متاثرہ تنصیبات کی مرمت اور بجلی کا نظام دوبارہ فعال کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ تاہم نقصان کی نوعیت اور بحالی کے عمل کے باعث بجلی کی مکمل فراہمی بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اس سے ایک روز قبل جمعرات کو دنیپرو کے ایک مصروف ریلوے پلیٹ فارم پر بھی روسی ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے واقعے کو ہولناک قرار دیتے ہوئے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس جنگ کے دوران مسلسل توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے بجلی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی متاثر ہورہی ہے۔ حکام کے مطابق سردیوں سے پہلے توانائی اور حرارتی نظام پر حملوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں بجلی کی فراہمی روزمرہ زندگی اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رات کے دوران روس کے مختلف علاقوں میں یوکرین کے ایک ہزار سے زائد ڈرون مار گرائے۔ یہ اعداد و شمار روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔