ویب ڈیسک: ٹک ٹاکر محمد انصر عرف مسٹر پتلو کو عدالت سے ریلیف مل گیا، ایڈیشنل سیشن جج محمد عرفان نسیم تارڑ کی عدالت نے قتل بالسبب اور بھگدڑ کے واقعے سے متعلق مقدمے میں ان کی 10 نومبر تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔
مسٹر پتلو ضمانت حاصل کرنے کے لیے ویل چیئر پر ڈسکہ کی مقامی عدالت میں پیش ہوئے۔ذرائع کے مطابق عدالت نے ملزم کی درخواست پر سماعت کے بعد عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 10 نومبر تک ریلیف دے دیا۔ ملزم کو مقررہ تاریخ پر دوبارہ متعلقہ عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل بالسبب، غیرقانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی اور بھگدڑ کے باعث ایک شخص کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں ٹک ٹاکر محمد انصر عرف مسٹر پتلو کی 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے عدالت کے سامنے سرنڈر کیا اور وہ اپنا قانونی حق استعمال کرنے کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنا چاہتا ہے۔تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزار کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور کی گئی۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ 10 نومبر کو عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد حفاظتی ضمانت کا حکم خود بخود غیر مؤثر ہوجائے گا۔
مسٹر پتلو کا پہلی بار ویڈیو بیان، خود کو بے قصور قرار دے دیا
دوسری جانب ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے پہلی مرتبہ ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا اور اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لے کر مکمل تحقیقات کرانے کی اپیل کی۔اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اس واقعے کا اتنا ہی دکھ ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حادثے کے وقت وہ اسپتال میں زیر علاج تھے اور کمر کی تکلیف کے باعث چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔مسٹر پتلو نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں حادثے کا ذمہ دار قرار دینے سے پہلے تمام شواہد کا جائزہ لیا جائے۔
شادی کی تقریب اور عوامی فلاح کے لیے ایونٹ منعقد کرنے کا دعویٰ
مسٹر پتلو نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ ان کی شادی کی تقریبات 5، 6 اور 7 نومبر کو طے تھیں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ تقریب عوام کے لیے بھی منعقد کی تھی، جس کا مقصد غریب بچیوں کی شادیوں میں مدد، راشن کی تقسیم اور لوگوں کو تحائف فراہم کرنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تقریب کے انعقاد سے قبل حفاظتی انتظامات سے متعلق ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں شرکا کو اپنے سامان کی حفاظت کرنے، ایک دوسرے کو دھکے نہ دینے اور اپنی قطار کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریب کے انعقاد کے لیے باقاعدہ این او سی بھی حاصل کیا گیا تھا اور انتظامات کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔
کمر کی تکلیف کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہونے کا مؤقف
انصر محمود کے مطابق ایونٹ سے ایک روز قبل وہ اسی گراؤنڈ میں موجود تھے جہاں کرکٹ کھیلتے ہوئے ان کی کمر کی ڈسک متاثر ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ طبیعت خراب ہونے پر انہیں چار افراد اٹھا کر گاڑی میں اسپتال لے گئے، جہاں وہ زیر علاج رہے۔انہوں نے بتایا کہ اگلی صبح انہیں اسپتال میں معلوم ہوا کہ تقریب کے مقام پر بھگدڑ مچنے سے حادثہ پیش آیا ہے، جس کے بعد انہوں نے اپنا پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔مسٹر پتلو نے ایف آئی آر میں اپنے اسٹیڈیم میں موجود ہونے کے الزام کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ حادثے کے وقت وہ بشیر اسپتال میں اپنی ایم آر آئی کروا رہے تھے۔ ان کے مطابق کیمروں کی فوٹیج اور اسپتال کا ریکارڈ چیک کرکے ان کے مؤقف کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
روپوش ہونے کی بھی وضاحت کردی
مسٹر پتلو نے اپنے ویڈیو بیان میں گزشتہ دو روز سے منظر عام پر نہ آنے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدید تکلیف میں ہیں اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واش روم جانے کے لیے بھی انہیں زمین کا سہارا لینا پڑتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد لوگ ان کے گھر اور فارم ہاؤس پہنچ گئے تھے، جہاں سامان بکھر گیا، تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کو سنبھالا، جس پر وہ پولیس کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے اپنے والد کی صحت سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے والد کی حالت آخری مرحلے میں ہے اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔
تقریب میں قومی پرچم اور ترانہ شامل کرنے کا دعویٰ
انصر محمود نے کہا کہ وہ بیرون ملک بھی شادی کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے پاکستان میں تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے ملک کی نمائندگی کرسکیں۔ان کے مطابق تقریب کے اسٹیج پر پاکستان کے چار پرچم لگائے گئے تھے اور اسٹیج سیکریٹری کو ہدایت کی گئی تھی کہ کنسرٹ سے پہلے قومی ترانہ اور ملی نغمے چلائے جائیں۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ شادی میں ملنے والی سلامی اور تحائف بھی عوام میں تقسیم کیے گئے تھے اور ان کا مقصد غریب خاندانوں کی مدد کرنا تھا۔