ایران نے ایک بار پھر امریکی فوج کی جانب سے اپنے اہم جزیرے قشم پر حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جزیرہ قشم پر دو میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایم کیو ون (MQ-1) ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق پاسداران انقلاب کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کی مدد سے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ امریکی ایم کیو ون ڈرون تھا جسے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم کی فضائی حدود میں مار گرایا گیا۔پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق یہ اب تک تباہ کیا جانے والا 16واں امریکی ایم کیو ون ڈرون ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس سے قبل بھی امریکی ڈرونز کو مختلف کارروائیوں کے دوران نشانہ بنایا جاچکا ہے۔
دوسری جانب ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے جزیرہ قشم پر دو میزائلوں کے گرنے کی ابتدائی اطلاعات دی ہیں، تاہم حملوں سے ہونے والے نقصان یا ممکنہ اہداف کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے تاحال جزیرہ قشم پر ان مبینہ میزائل حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرونز کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ملکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے دفاعی نظام ہائی الرٹ ہے۔
جزیرہ قشم کی اہمیت کیا ہے؟
جزیرہ قشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو صوبہ ہرمزگان میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل ہوتی ہے۔جزیرہ قشم کے اطراف حالیہ فوجی سرگرمیوں اور ڈرونز کی موجودگی نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی اور سمندری تجارت بھی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
جنگ بندی مذاکرات کے دوران نئی کشیدگی
یہ واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پیشرفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔تاہم جزیرہ قشم میں مبینہ حملوں اور ڈرونز مار گرانے کے ایرانی دعوؤں نے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔