مریم نواز کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیلات طلب، پنجاب اسمبلی میں تحریک التواء جمع

مریم نواز کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیلات طلب، پنجاب اسمبلی میں تحریک التواء جمع

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ستمبر 2026 میں دورہ لندن کے اخراجات اور سرکاری جہاز کے استعمال سے متعلق تفصیلات طلب کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں تحریک التواء جمع کروا دی گئی ہے۔

تحریک التواء اپوزیشن رکن پنجاب اسمبلی وقاص محمود کی جانب سے جمع کروائی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے دورہ لندن پر آنے والے سفری اخراجات، سرکاری جہاز کے استعمال اور دیگر متعلقہ مالی معاملات کی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں۔تحریک کے متن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 ستمبر 2026 کو سفری اخراجات کی مد میں 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے جمع کروائے گئے۔ یہ رقم بینک آف پنجاب کے چیک کے ذریعے عمر عباس کی وساطت سے جمع کرائی گئی، تاہم تحریک کے مطابق رقم جمع کروانے والے اکاؤنٹ اور اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ادائیگی کے ذرائع اور اکاؤنٹ کی تفصیلات پر سوالات
تحریک التواء میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز اپنی ڈکلیئرڈ آمدن کے مطابق اس سفر کے اخراجات برداشت کرسکتی ہیں یا نہیں۔ متن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری جہاز کے استعمال سے متعلق حکومت پنجاب کی جانب سے مختلف اوقات میں متضاد جوابات سامنے آئے ہیں۔دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 ستمبر کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے سرکاری جہاز کے استعمال کے اخراجات کی مد میں 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے پنجاب حکومت کے خزانے میں جمع کروائے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے دورے کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔

 غیر ملکی پائلٹس کی تنخواہوں کا معاملہ
وقاص محمود کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سرکاری جہاز چلانے کے لیے دو غیر ملکی پائلٹس تعینات کیے گئے ہیں، جن کی مجموعی ماہانہ تنخواہ تقریباً 70 ہزار ڈالر بتائی گئی ہے۔ تحریک میں ان اخراجات کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

معاملہ ایوان میں زیر بحث لانے کی درخواست
اپوزیشن رکن نے معاملے کو عوامی اہمیت کا حامل اور فوری نوعیت کا قرار دیتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی سے تحریک التواء منظور کرنے کی درخواست کی ہے۔تحریک میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری جہاز کے استعمال، سفری اخراجات کی ادائیگی، رقم جمع کروانے والے اکاؤنٹ اور مالی منظوریوں سمیت تمام متعلقہ تفصیلات ایوان کے سامنے رکھی جائیں تاکہ سرکاری وسائل کے استعمال اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق سوالات کا جواب مل سکے۔