غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں فلسطینی خواتین اور بچیوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور بے گھر ہونے سے متعلق دل دہلا دینے والے اعداد و شمار سامنے آگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن اور فلسطینی وزارت امور خواتین کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ میں 38 ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں شہید ہو چکی ہیں، جبکہ 11 ہزار 700 دیگر شدید زخمی ہونے کے باعث مستقل معذوری کا شکار ہو گئی ہیں۔ یوں مجموعی طور پر تقریباً 50 ہزار خواتین اور بچیاں ہلاکتوں یا شدید چوٹوں سے متاثر ہوئی ہیں۔فلسطینی خواتین کے قومی دن کے موقع پر جاری ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں خواتین اور بچیوں کو صرف جانی نقصان ہی نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی، رہائش کی تباہی، خوراک اور صاف پانی کی قلت اور طبی سہولتوں کی کمی جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔
تقریباً ایک ملین خواتین اور بچیاں بے گھر
رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران نقل مکانی کے احکامات اور فوجی کارروائیوں کے باعث تقریباً 10 لاکھ خواتین اور بچیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ ان میں سے بیشتر خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں بنیادی ضروریات، رازداری اور محفوظ رہائش تک مناسب رسائی حاصل نہیں۔یو این ویمن کے مطابق مسلسل نقل مکانی اور بنیادی سہولتوں کی کمی نے خواتین کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ حاملہ خواتین کو غیر محفوظ ماحول میں بچوں کی پیدائش کے خطرات کا سامنا ہے، جبکہ خواتین کو اپنے بچوں، بیمار افراد اور بزرگوں کی دیکھ بھال بھی انتہائی مشکل حالات میں کرنا پڑ رہی ہے۔
ہزاروں خواتین بیوہ، خاندانوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں
جنگ کے باعث غزہ میں خواتین کی خاندانی اور معاشی ذمہ داریوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کی سربراہی میں چلنے والے گھرانوں کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً 86 ہزار 290 گھرانے اب خواتین چلا رہی ہیں۔بہت سی خواتین اپنے شوہروں کی ہلاکت کے بعد بچوں کی کفالت، خوراک کے انتظام اور رہائش کی تلاش جیسی ذمہ داریاں اکیلے نبھا رہی ہیں۔ تباہ شدہ گھروں اور محدود وسائل کے باعث ان خاندانوں کو شدید معاشی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود ہلاکتوں اور زخمی ہونے کا سلسلہ جاری
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک ہزار 551 فلسطینی شہید اور 5 ہزار 573 زخمی ہو چکے ہیں۔یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں شہریوں کو درپیش خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی حتمی مدت اور تازہ ترین حیثیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
خوراک اور طبی سہولتوں کی قلت نے بحران مزید سنگین کر دیا
یو این ویمن کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں خواتین اور بچیوں کو خوراک، محفوظ پانی، رہائش اور حفظانِ صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی کا سامنا ہے۔ ادارے کے تخمینے کے مطابق جولائی سے دسمبر 2026 کے دوران تقریباً 7 لاکھ 2 ہزار خواتین اور بچیاں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں تقریباً 4 ہزار اسقاطِ حمل کے واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2025 کے آخری چھ ماہ کے مقابلے میں تقریباً تین گنا ہیں۔ خراب طبی سہولتیں، غذائی قلت اور غیر محفوظ رہائشی حالات حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کے لیے اضافی خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
خواتین کی امدادی تنظیمیں بھی مشکلات کا شکار
اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں خواتین کے لیے کام کرنے والی 14 تنظیموں کے جائزے میں سے 13 نے بتایا کہ 2025 کے بعد خواتین اور بچیوں کی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ان تنظیموں کے پاس بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل ناکافی ہیں۔رپورٹ کے مطابق امدادی فنڈز کی کمی کے باعث متعدد تنظیموں کو خواتین اور بچیوں کو انتظار کی فہرستوں میں رکھنے یا انہیں ضروری خدمات فراہم کرنے سے معذرت کرنا پڑ رہی ہے۔ اس صورت حال سے جنگ سے متاثرہ خواتین کے لیے قانونی مدد، نفسیاتی معاونت اور تحفظ کی خدمات تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔