اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان میں تازہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص شہید اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ حملے لبنان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے ہیں، اور مقامی لوگوں اور حکام کے مطابق ان سے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کو عالمی قوانین کی واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اسے ایک مکمل جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کو نصف سے زیادہ سال گزر چکا ہے، مگر اس دوران اسرائیل نے کسی بھی قسم کے مذاکراتی تصفیے کو مسترد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، اور اس کی کارروائیاں امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کی امن فوج، UNIFIL، نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حملے لبنان میں شہریوں کے لیے شدید خطرہ ہیں اور یہ حملے لبنانی فوج اور امن کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ UNIFIL کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے علاقائی استحکام متاثر ہو رہا ہے اور امن و امان کی صورتحال مزید نازک ہوتی جا رہی ہے۔ لبنان میں جاری کشیدگی اور حملوں کے باعث علاقے میں امن و استحکام کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔