سکھ یاتریوں کے لیے پاکستانی ویزا فیس ختم کرنے کا اعلان

سکھ یاتریوں کے لیے پاکستانی ویزا فیس ختم کرنے کا اعلان

ویب ڈیسک:صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب، سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے سکھ یاتریوں کے لیے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ویزا فیس کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اب سکھ یاتری 48 گھنٹوں کے اندر آن لائن پاکستانی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں "پاکستان میں سیاحت کے امکانات" کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان میں سکھوں کے 280 مذہبی مقامات موجود ہیں جن میں سے 80 فیصد انتہائی مقدس مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کے بے شمار مواقع موجود ہیں اور سکھوں کے لیے پاکستان ایک روحانی مرکز ہے، جہاں ان کے دل دھڑکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 200 سے زائد گوردوارے ہیں جن میں سے 100 گوردوارے ننکانہ صاحب، لاہور، قصور اور نارووال میں واقع ہیں، اور ان مقامات پر سیکیورٹی کے حوالے سے تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی ورثے کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بھی ذکر کیا گیا، جنہوں نے پچھلے مہینے لاہور میں امریکی سکھ یاتریوں کے وفد سے ملاقات کی تھی اور ان کے لیے پاکستان میں مذہبی مقامات پر آزادانہ زیارت کی سہولت فراہم کرنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سکھ یاتریوں کے لیے پاکستان میں آمد پر کوئی ویزا فیس نہیں ہوگی اور امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے پاسپورٹ ہولڈرز کو آن ارائیول ویزا ملے گا، جب کہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے بھی کوٹے کا تعین کیا جائے گا۔محسن نقوی نے اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ 124 ممالک کے لیے پاکستان نے ویزا فری سہولت فراہم کر دی ہے، جس سے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد میں مزید آسانیاں پیدا ہوں گی۔