پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل عرصے کے بعد پہلی بار واہگہ بارڈر سکھ یاتریوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ بابا گرونانک کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے آئے دو ہزار سے زائد یاتریوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔یاتریوں کا 10 روزہ دورہ جاری ہے، جس دوران وہ پانچ مقدس گوردواروں کی یاترا کریں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اور ایڈیشنل سیکرٹری شرائن ناصر مشتاق نے واہگہ پر یاتریوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور یاتریوں کے اس دورے کو تاریخی اہمیت حاصل ہے۔