ویب ڈیسک:دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے متعلق قیاس آرائیاں غلط ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کے فارن مشن اور وزارت خارجہ کے درمیان بات چیت سیکریٹ ایکٹ کے تحت ہوتی ہے اور پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کی سیاست یا اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور یہ تعلقات کسی بھی بیرونی اثرات سے متاثر نہیں ہوتے۔
ترجمان نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو بھی مستحکم قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دو طرفہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دی ہے اور پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ممتاز زہرا بلوچ نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، قاضی فائر عیسٰی کی گاڑی پر حملے کے معاملے پر برطانوی حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور ابتدائی معلومات کے بعد اس معاملے کو باضابطہ طور پر اٹھایا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف 11 نومبر کو الریاض سمٹ میں شرکت کریں گے، جہاں وہ فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ کریں گے۔ وزیر اعظم باکو کا دورہ بھی کریں گے، جہاں وہ موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں شرکت کریں گے، جو 12 اور 13 نومبر کو ہوگی۔