ٹرمپ ایران پر پھر بمباری کی دھمکی
14 نکاتی فارمولا تیار ،شرائط نہ مانی گئیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے، شرائط مان لینے کی صورت میں جاری آپریشن ’ایپک فیوری‘ ختم ، خطے میں کشیدگی کم ،ایران جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کیلئے تیار ہے،ٹرمپ
(لیڈ انٹرو 1)
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کی جانب سے شرائط نہ مانی گئیں تو مزید شدت سے حملے کریں گے۔اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے شرائط مان لینے کی صورت میں جاری آپریشن ’ایپک فیوری‘ فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا اور خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے، آبنائے ہرمز میں ایران سمیت تمام ممالک کو آزادانہ رسائی دی جائے گی۔تاہم امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو امریکی حملے مزید شدت اختیار کریں گے، انہوں نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک فیصلہ کن موقع ہے اور عالمی امن کے لیے تہران کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔
(لیڈ انٹرو 2)
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران امریکا کی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کا مقصد دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا۔ترجمان کے مطابق ایران اس معاملے پر تفصیلی غورکر رہا ہے اورحتمی مؤقف بعد میں سامنے لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کرے گا، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر متفق نہ ہوا تو جنگ بندی کے بعد دوبارہ حملے شروع کیے جائیں گے اور یہ کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ شدت اور پیمانے پر ہوں گی۔امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے، اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ایگزیوز کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی معاہدے میں درج ذیل نکات موجود ہیں:جنگ کا خاتمہ: ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔30 دن کی مہلت: معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہو گی۔آبنائے ہرمز: اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکا کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ایٹمی پروگرام پر پابندی: ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکا 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔افزودہ یورینیئم کی ایران سے منتقلی:خبر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حملوں کے باوجود جنگ بندی برقرار، امریکا، ہرمز کا کنٹرول کسی صورت میں نہیں چھوڑیں گے، ایران، امارات پر دوسرے دن بھی حملے ایک تجویز کے مطابق یہ مواد امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے، جو کہ تہران کی سابقہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صورتِ حال کو ’انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی‘ قرار دیا ہے، اگرچہ انہوں نے سفارتی حل کی اْمید ظاہر کی، لیکن ساتھ ہی ایرانی قیادت کے بعض حصوں پر سخت تنقید بھی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد کی فضا ابھی مکمل بحال نہیں ہوئی۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں