ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہاقان فیدان نے بھارتی حملوں پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی پاکستان میں شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ہاقان فیدان نے اپنے بیان میں کہا کہ 6 مئی کو بھارت کی جانب سے کیے جانے والے حملے نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے نے ایک مکمل جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا، اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔ ترکی نے اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ اپنے مکمل تعاون کا اظہار کیا ہے اور اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ترکی کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنی افواج کو تحمل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کے مزید تصادم سے بچا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جلد از جلد ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ خطے میں امن و سکون برقرار رہے۔
ترکی نے بھارت کے ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پہلگام حملے کی تحقیقات کے لیے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی جائے گی تاکہ اس معاملے کی حقیقت سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا اور اس بات کا یقین کرنا ہوگا کہ دونوں طرف کے شہریوں کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ترکی کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ بحران کا سفارتی حل نکالا جائے تاکہ خطے میں جنگ کی صورتحال سے بچا جا سکے۔