وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس آج وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ملکی سیکیورٹی صورتحال، بھارتی جارحیت اور پاکستان کے مؤثر جواب پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کی تفصیلات:
اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیرِ دفاع، وزیرِ خارجہ، وزیرِ داخلہ، وزیرِ اطلاعات، وزیرِ قانون، مشیرِ قومی سلامتی، وزیرِ خزانہ اور وزیرِ اطلاعات و نشریات سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔عسکری حکام نے اجلاس کو بھارت کے حملوں اور پاکستان کی جوابی کارروائی پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ساری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ ہے، پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔وزیرِ اعظم نے اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کریں گے۔یہ اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان پر بزدلانہ حملہ کرتے ہوئے مظفرآباد، کوٹلی، باغ، احمد پور شرقیہ، مریدکے اور بہاولپور سمیت 8 مقامات پر اپنی فضائی حدود سے میزائل فائر کیے اور سویلین آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔
پاک فوج نے ان حملوں کا فوری اور مؤثر جواب دیتے ہوئے بھارت کے 5 طیارے گرائے اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو تباہ کردیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر سطح پر دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کی خودمختاری و سالمیت کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں وہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی حکمت عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔یہ اجلاس پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گا اور اس سے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار ہوگا۔