عدالتی وقت بہت قیمتی ، سنجیدہ مسائل کیلئے وقف ہونا چاہیے،بلا وجہ کیسز دائر کرنے کی عادت کے باعث عدالتیں فضول نوعیت کے کیسز سے بھری پڑی ہیں
ہر چیز پر مفاد عامہ کی درخواست دائر کی جاتی ہے، ایسی درخواستیں زیادہ تر شہرت کیلئے دائر کی جاتی ہیں، جسٹس مس عالیہ نیلم، شہری کی درخواست پر 4صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری
لاہور(آئی این پی )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے قرار دیا کہ ایک ہی طرح کے ریلیف کیلئے دو مختلف فورمز پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے شہری منیر احمد کی درخواست پر 4صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے۔چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے غیر ضروری درخواست دائر کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ یہ درخواست پہلے ہی اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اور مسترد ہو چکی ہے، عدالتی وقت بہت قیمتی ہے جو کہ سنجیدہ مسائل کیلئے وقف ہونا چاہیے، ایسی درخواستیں بغیر کسی ذمہ داری، تحمل اور قانونی طریقہ کار کے دائر کر دی جاتی ہیں، بلا وجہ کیسز دائر کرنے کی عادت کے باعث عدالتیں فضول نوعیت کے کیسز سے بھری پڑی ہیں۔جسٹس مس عالیہ نیلم نے فیصلے میں لکھا کہ ہر چیز پر مفاد عامہ کی درخواست دائر کی جاتی ہے، ایسی درخواستیں زیادہ تر شہرت کیلئے دائر کی جاتی ہیں، ایسا عمل مفاد عامہ کی درخواستوں کی ساکھ کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، عدالت کا وقت ایسی فضول نوعیت کی درخواستوں کو سننے میں ضائع ہو جاتا ہے بصورت دیگر یہ عدالت ایک خاموش تماشائی بن جائے گی جہاں عوام کا وقت اور وسائل ضائع ہوں گے۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا، عدالت تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے سے اسی درخواست کے دائر ہونے کے باعث لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی، عدالت تمام دلائل کا جائزہ لینے کے بعد اس درخواست کو خارج کرتی ہے۔