وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں تیل کا ایک بڑا بحران پیدا ہو رہا ہے اور آنے والے مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، اس لیے قوم کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنا چاہیے۔
اسلام آباد میں ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران پاکستان کی معیشت استحکام اور بحالی کی جانب گامزن ہے اور حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی اشاریے مثبت رجحان ظاہر کر رہے ہیں تاہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی توانائی مارکیٹ کی صورتحال اندرونی مہنگائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ذمہ دار قوم ہونے کے ناطے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے بچنا چاہیے اور جہاں ممکن ہو ایک خاندان دو یا تین گاڑیوں کے بجائے ایک گاڑی استعمال کرے تاکہ ایندھن کی بچت ہو۔
احسن اقبال کے مطابق قیمتوں کے استحکام کے لیے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاسوں کے باعث ضروری اشیا کی فراہمی برقرار رہی۔ جولائی تا فروری 2025-26 کے دوران اوسط مہنگائی 5.5 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 5.9 فیصد تھی، جبکہ فروری 2026 میں مہنگائی 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ جولائی سے فروری کے دوران 585 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 403 ارب روپے کی فنڈنگ منظور کی گئی، جس سے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں پیش رفت ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوں، اسی مقصد کے تحت پی ایس ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں پر تسلی بخش رفتار سے کام جاری ہے اور جولائی تا فروری کے دوران پی ایس ڈی پی کے فنڈز کے استعمال کی شرح 36 فیصد رہی۔