کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد خطے میں نئے طاقت کے توازن کو جنم دے گا؟

کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد خطے میں نئے طاقت کے توازن کو جنم دے گا؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جسے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ میں اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن اور ممکنہ نئے علاقائی اتحاد کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں بین الاقوامی ماہرین کی آرا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جاسکتا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات اور حدود ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔

ایک ملک کو خطرہ، تینوں کا مشترکہ دفاع؟
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے کسی ایک رکن کو لاحق خطرے کی صورت میں مشترکہ دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو کیا باقی دونوں ممالک لازمی طور پر فوجی کارروائی کریں گے؟تجزیہ کار ہارلن اولمین کے مطابق معاہدے میں اگر ایک ملک پر حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کرنے کی بات کی گئی ہے تو ’تصور کیا جائے گا‘ کی اصطلاح اہم ہے، کیونکہ اس کا مطلب لازمی طور پر فوجی مداخلت نہیں ہوتا۔ماہرین نے اسی بنیاد پر سوال اٹھایا ہے کہ اگر یمن کے حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو کیا پاکستان اور ترکیہ بھی اس تنازع میں براہِ راست شامل ہوں گے؟ رپورٹ کے مطابق معاہدہ اس معاملے پر فی الحال واضح جواب فراہم نہیں کرتا۔

تینوں ممالک کو مختلف سیکیورٹی خطرات کا سامنا
عرب میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں کو مختلف نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔پاکستان کو افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور بھارت کے ساتھ ماضی کی مسلح جھڑپوں کے تناظر میں سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ سعودی عرب کو ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خدشات رہے ہیں، جبکہ ترکیہ طویل عرصے سے کرد مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرتا آیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ بھی اس کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی صف بندیاں
7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بھی وسیع تر علاقائی تنازع کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ایسے ماحول میں خطے کے کئی ممالک اپنے پرانے اختلافات کم کرکے مشترکہ مفادات اور باہمی تعاون کو ترجیح دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔رپورٹ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے تعاون کو بھی اسی بدلتی علاقائی صف بندی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ ماضی میں کئی معاملات پر اختلافات کا شکار رہے۔ خصوصاً 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا۔تاہم بعد کے برسوں میں دونوں ممالک نے اپنے اختلافات کم کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کی جانب پیش رفت کی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں کردار ادا کیا۔

تین مختلف دفاعی طاقتوں کا امتزاج
ماہرین کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنی مختلف دفاعی اور معاشی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ایک مضبوط شراکت داری تشکیل دے سکتے ہیں۔

پاکستان کے پاس تجربہ کار مسلح افواج، دفاعی صلاحیت اور جوہری طاقت موجود ہے۔
ترکیہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور عسکری صلاحیتوں کے ساتھ نیٹو کا اہم رکن ہے۔
سعودی عرب کے پاس خطے میں نمایاں مالی اور معاشی وسائل موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان مختلف صلاحیتوں کا امتزاج تینوں ممالک کو ایک دوسرے کے لیے اہم دفاعی شراکت دار بنا سکتا ہے۔

کیا یہ ’مسلم نیٹو‘ بن سکتا ہے؟
معاہدے کے حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ دفاعی تعاون مستقبل میں کسی بڑے علاقائی عسکری اتحاد کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق فی الحال معاہدے کو باقاعدہ ’مسلم نیٹو‘ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اس کے تحت مشترکہ فوجی کارروائی، کمانڈ اسٹرکچر اور باہمی دفاعی ذمہ داریوں کی عملی تفصیلات ابھی واضح نہیں۔

امریکا کے علاقائی کردار کا بھی اہم پہلو
رپورٹ کے مطابق اس اتحاد کی اہمیت ایسے وقت میں بڑھ گئی ہے جب امریکا کے علاقائی کردار اور اس کی سیکیورٹی شراکت داری کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔سعودی عرب اور ترکیہ طویل عرصے سے امریکا کو اہم سیکیورٹی شراکت دار سمجھتے رہے ہیں، تاہم امریکی خارجہ پالیسی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث خطے کے ممالک متبادل دفاعی تعاون اور نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔آخرکار مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک مؤثر علاقائی دفاعی اتحاد میں تبدیل ہوتا ہے یا صرف مشترکہ سیاسی و دفاعی عزم تک محدود رہتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں تینوں ممالک کے عملی اقدامات اور معاہدے کے تحت کیے جانے والے تعاون سے ہوگا۔