رفیع احمد
اقوامِ متحدہ نے 1975 سے ہر سال 8، مارچ کو " عالمی یومِ خواتین " منانے کا اعلان کیا تھا، اس دن کو منانے کا مقصد یہ بتایا گیا کہ خواتین کی صحت ، تعلیم ،سیاسی، سماجی ، قانونی اور جائیداد وغیرہ کے حقوق دیئے جاہیں۔ پاکستان میں بد قسمتی سے خواتین کی آزاد پسند تنظیموں نے خواتین کے جایز حقوق کو چھوڑ کر کسی اور کے ایجنڈے پر کام کرنا شروع کر دیا تھا یعنی " میرا جسم میری مرضی " اور کہا کہ " برابری نہیں تو خاموشی نہیں " اور ان باتوں سے بڑھ کر یہ مطالبہ کیا کہ "لایف ان ریلیشن شپ " یعنی غیر رسمی ازدواجی رشتہ کی آزادانہ اجازت ہو۔آزاد پسند خواتین کی جاہلانہ سوچ سے ہمارا معاشرتی نظام کو تباہ کرنے کی سازش شروع کر دی گئی ہے، ان کی اس شیطانی سوچ کے پیچھے ہوس پرست مردوں کا ہاتھ بھی ہے۔آپ کو یاد ہوگا 20، جولائی 2021 اسلام آباد میں ایک دل خراش واقعہ ہوا تھا وہ ہی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ،ظاہر جعفر/ نور مقدم کیس۔ یہ دونوں افراد " لایف ان ریلیشن شپ " کے گھناؤنے اصول پر رہے رہے تھے ، منشیات کا استعمال آزادانہ کررہے تھے ، ظاہر جعفر کو جو کہ نشے کا عادی ہو چکا تھا اس نے اپنی ہی خوبصورت محبت کو بیدردی سے اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیا تھا اور بلآخر ظاہر جعفر کو پھانسی کی سزا ہوئی، جب ہم اس کی پھانسی کے بارے میں بتائیں تو نور مقدم کے کردار کے بارے میں بھی لازمی بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ " میرا جسم میری مرضی"
کا منطقی انجام اسی طرح کا ہوتا ہے۔۔۔۔۔فیصلہ سناتے ہوئے محترم جج کے ریمارکس بھی لازمی پتہ ہونا چاہیے کہ "نور مقدم اور ظاہر جعفر کا تعلق لاء آف دی لینڈ اور اسلامی شریعت کے خلاف تھا۔۔۔۔ لڑکا اور لڑکی کا بغیر کسی رشتے کے کئی کئی دن ایک ساتھ رہنا، ایک دوسرے کے گھروں میں آزادانہ آنا جانا، پارٹیز میں کپل ڈانس کرنا، شراب پینا کرسٹل آئس کا نشہ کرنا۔والدین کراچی میں مزے سے رہ رہے ہیں اور بیٹی اسلام آباد میں دوست کے ساتھ بلا تکلف رہ رہی تھی ،جب اخلاقیات موجود ہی نہیں ہیں،حدود کا خیال رکھا ہی نہیں جا رہا بلکہ تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں تو پھر کون سی شریعت ! کون سا قانون؟ایسے نشے کے زیر اثر ایسے ہی قتل ہوتے ہیں،دوست، دوستوں کو ذرا سی بات پر بھڑک کر ایسے ہی قتل کرتے ہیں، ظاہر جعفر قاتل ہے، قاتل کو سزائے موت ہوئی اسے اس سے بھی بدتر سزا ہونی چاہیے تھی یا کم از کم چوک میں پھانسی دی جانی چاہیے تھی تاکہ لوگ عبرت پکڑیں مگر نور مقدم کا جو کریکٹر تھا اسے بھی اس ہی کی سزا ملی یہ کوئی گھریلو تشدد نہیں تھا شوہر نے بیوی کو نہیں مارا تھا،یہ بے راہ روی اور معاشقے کا نتیجہ تھا۔ ظاہر جعفر کے ساتھ نور مقدم کو بھی یاد رکھیں اور بچوں کو بتائیں کہ ہمارے معاشرے اور دین میں"لائف ان ریلیشن شپ " کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور جو اس ریلیشن میں اپنی مرضی سے رہ رہے ہیں ان کے لیے آخری نا کوئی حد ہے نا اس کے انجام پر کوئی قانون لاگو ہوتا ہے اس واقع سے اور محترم جج کے سنہرے ریمارکس سے ہم سب کو عبرت پکڑنی
چاہیے۔
معروف اداکارہ و شوبز ماڈل حمیرا اصغر علی " برابری نہیں تو خاموشی نہیں" کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر آبائی شہر لاہور سے کراچی کے فلیٹ میں دو سال سے تنہا رہ رہی تھی اور اپنی کمرشل مصروفیات کو جاری رکھی ہوئی تھی، اس کا ڈانس پارٹیوں میں جانا اور وہاں پر منشیات کا استعمال ہونا معمولی بات تھیں بالآخر وہ اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچی، 9 ، ماہ تک اس کی لاش فلیٹ میں خستہ حالت میں پڑی ہوئی پائی گئی۔ 19،اگست 2024 کو آزاد پسند عورت نتاشا دانش نے نشے کی حالت میں بے قصور باپ بیٹی کو اپنی ہی گاڑی سے مارا دیا اور ساتھ میں چار افراد کو زخمی بھی کردیا تھا۔
یونائیٹڈ نیشنز کے 2013 کے سروے کے مطابق پاکستان میں قریباً 25 ، فی صد عورتیں مردوں کے مقابلے میں نشہ کررہی ہیں اور ان میں طالبات کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شامل ہیں۔ عورتوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کی ایک وجہ مخلوط محفلیں منعقد کرنا، حکومت کی چشم پوشی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی ڈانس پارٹیوں کی اندر شراب ، ویڈ (weed) ، ہیروئن، نشہ آوار گولیوں کا استعمال، چرس اور کرسٹل آیس کا استعمال اور پھر بعد میں لڑائی جھگڑے اور لڑکیوں کے قتل و غارتگری پر اختتام ہوتا ہے۔ ان آزاد پسند خواتین و مردوں نے جنس تبدیل کرنے کا قانون بھی پاس کروا لیا ہے اور اب ان بے حیا لوگوں کی گھناؤنی کوشش ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جائے۔ ہماری خواتین کی تمام تنظیموں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلامی سوچ رکھنے والی سمجھ دارعورت کے بغیر،مضبوط انسانی خاندانی معاشرے کا تصور ناممکن ہے۔