لاہور میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی بھرمار – محکمہ کسٹمز کی مجرمانہ خاموشی،

لاہور میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی بھرمار – محکمہ کسٹمز کی مجرمانہ خاموشی،

 ندیم بھٹی

لاھور، جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ھے، آج کل ایک ایسے سنجیدہ مسئلے کی لپیٹ میں ھے جس نے نہ صرف ریاستی اداروں کی کارکردگی کو مشکوک بنا دیا ھے بلکہ ملکی معیشت، امن و امان اور قانون کی بالادستی کو بھی سخت دھچکا پہنچایا ھے۔اس وقت مسئلہ ھے لاھور میں نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا، جو نہ صرف قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ قانون شکنوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ اس سب کے باوجود متعلقہ ادارے، بالخصوص محکمہ کسٹمز، مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ھے، جو یقیناً مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ھے۔ یے شک نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ٹیکس ادا نا کر کے قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔
پاکستان میں کسی بھی درآمدی گاڑی کو سڑک پر لانے سے پہلے کسٹم ڈیوٹی کی مکمل ادائیگی لازمی ھے۔ اس عمل کے بغیر نہ تو گاڑی کو رجسٹر کیا جا سکتا ھے اور نہ ہی اس کی قانونی ملکیت حاصل کی جا سکتی ھے۔ لیکن لاھور جیسے بڑے اور ترقی یافتہ شہر میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ھے کہ سینکڑوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دن دیہاڑے سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ ان گاڑیوں میں نہ صرف پرانی جاپانی گاڑیاں شامل ہیں بلکہ لگڑری SUV، پراڈو، لینڈ کروزر، ویگو، حتیٰ کہ مہنگی اسپورٹس کارز بھی شامل ہیں جن کو
 اکثر رات کو نو بجے کے بعد  لاھور کی معروف  شاہراہوں پر دیکھا جا سکتا ھے جن کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں۔ چوری کے بعد سینہ زوری کا عالم چیک کریں تو ان گاڑیوں  پر نمبر بھی اپنی پسند کے خود ساختہ ھی لگائے ھوتے ہیں۔یہ منظر کسی غیر منظم ریاست کا نہیں ھوتا، بلکہ اس لاھور کا ھے جو پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور انتظامی مرکز کہلاتا ھے۔ اس شہر میں اگر قانون کی اس طرح دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں تو ملک کے دیگر حصوں میں کیا ہو رہا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
یہ گاڑیاں کہاں سے آتی ہیں یہ ایک سوال ھے اور جس کے جواب میں تحقیقات سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ھے کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بلوچستان،خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے راستے پاکستان میں داخل کی جاتی ہیں۔ چونکہ ان علاقوں میں کسٹمز کا کنٹرول انتہائی کمزور یا بعض صورتوں میں سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا، اسمگلنگ مافیا کے لیے یہ جنت کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں داخل ہونے والی گاڑیوں کو یا تو کلیئر ہی نہیں کرایا جاتا، یا جعلی کاغذات تیار کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں یہ گاڑیاں اندرون ملک، بالخصوص لاھور، کراچی، پشاور، اور فیصل آباد میں فروخت کی جاتی ہیں۔
یہ گاڑیاں عام طور پر انتہائی منظم نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کی جاتی ہیں، جن میں بعض بااثر شخصیات، کسٹمز کے بعض بدعنوان اہلکار، اور اسمگلرز شامل ہوتے ہیں۔ ان گاڑیوں کی فروخت خفیہ مارکیٹس میں کی جاتی ھے جہاں کوئی خریدار اگر "اثر و رسوخ" رکھتا ہو تو اسے بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے گاڑی مل سکتی ھے۔
محکمہ کسٹمز کی چھاپہ مار ٹیم  کے نچلے درجے کے لوگوں کی مجرمانہ خاموشی کی بات کریں تو وہ رویے کی لالچ میں یہ کام کر گزرتے ھیں۔
اگرچہ کسٹمز کا کام ملک میں غیر قانونی اشیاء￿  کی درآمد اور آمد و رفت کو  سختی  سے روکنا ھے، لیکن زمینی حقیقت یہ ھے کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی موجودگی خود اس بات کا ثبوت ھے کہ کسٹمز کا ادارہ یا تو نااہلی کا شکار ھے، یا پھر دانستہ طور پر آنکھیں بند کیے ہوئے ھے۔
 میرے خاص ذرائع کے مطابق کئی کیسز میں یہ بات سامنے آئی ھے کہ کسٹمز کے بعض اہلکار ان گاڑیوں کی موجودگی سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں لیکن وہ اس بارے میں کارروائی نہیں کرتے۔ بعض صورتوں میں تو مبینہ طور پر رشوت لے کر ان گاڑیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ھے۔ یا پھر ماھانہ طور پر  کمیٹی ڈل جاتی ھے۔بے شک یہ صورتحال کسی بھی ریاستی ادارے کے لیے باعثِ شرم ھے، کیونکہ اگر وہ ادارہ جو قانون کی نگہبانی پر مامور ھے خود ہی قانون کی خلاف ورزی کا حصہ بن جائے، تو عوام کے لیے انصاف کی امید باقی نہیں رہتی۔ موجودہ  حالات کے پیش نظر  یہ  گاڑیاں ملکی سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرے کا باعث  بھی بن سکتی ہیں۔ جس سے بڑی تباہی بھی ممکن ھے۔یہ مسئلہ محض مالی بدعنوانی یا ٹیکس چوری تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق قومی سلامتی سے بھی جڑا ھوا ھے۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چونکہ رجسٹر نہیں ہوتیں، ان کا کوئی ریکارڈ نیشنل ڈیٹابیس میں موجود نہیں ہوتا، لہٰذا یہ گاڑیاں دہشتگردی، اغواء￿  برائے تاوان، اسمگلنگ، اور دیگر جرائم کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔اور بعض علاقوں میں ھو بھی رہی  ہیں۔
پولیس کے لیے ایسی گاڑیوں کا سراغ لگانا تقریباً ناممکن ہوتا ھے۔ کئی کیسز میں مجرم نان کسٹم پیڈ گاڑی استعمال کرکے اور واردات کر کے فرار ہو جاتے ہیں، اور بعد میں ایسی گاڑی کو کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ دیا جاتا ھے جہاں سے اس کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہوتا۔
 جب محکمہ ایکسائز اور ٹریفک پولیس کے حکام سے اس بارے  میں بات کی گئی تو ان کا مؤقف ھے کہ ان کے پاس ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا مکمل اختیار نہیں ہوتا۔ ایکسائز حکام کا کہنا ھے کہ چونکہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں رجسٹر ہی نہیں ہوتیں، لہٰذا ان کے خلاف کارروائی کا قانونی جواز نہیں ملتا جب تک کہ کسٹمز کا ادارہ ساتھ نہ دے۔ پولیس بھی اکثر ان گاڑیوں کو صرف اس وقت روکتی ھے جب کوئی شکایت ہو، وگرنہ سڑکوں پر روزانہ ہزاروں گاڑیاں ہونے کی وجہ سے ہر مشتبہ گاڑی کی چیکنگ ممکن نہیں جس سے پولیس اے وی ایل ایس ڈیپارٹمنٹ کی بھی مجرمانہ غفلت  سامنے  آتی ھے اس تعیناتی سے پہلے جو  آفیسر  پورے لاھور کا انچارج  رھا ھے۔ اس کی کارکردگی بھی متاثر کن نا تھی اور مزے کی بات وہ  پولیس جونئر  رینکر ڈی ایس پی ھو کر ایس پی کی سیٹ پر کام کرتا رھا ھے اور ڈیڑھ سال سیاہ اور سفید کا   مالک بنا رھا جس کا 
ا نسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو پتا ھی نہیں  چلا یا انہوں  نے بھی اپنی آنکھیں دانستہ طور پر بند رکھیں تاہم، عوامی تاثر یہ ھے کہ ان اداروں میں بھی "سفارش" اور "رشوت" کا عنصر ملوث ہوتا ھے، جس کی وجہ سے طاقتور افراد کی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں نہ صرف نظرانداز کی جاتی ہیں بلکہ ان کے خلاف بولنے والوں کو خاموش کروا دیا جاتا ھے۔ ان حالات  میں عوامی ردعمل اور بے چینی بھی سامنے  آئی ھے۔لاھور کے شہری اس صورتحال پر سخت ناراض اور پریشان ہیں۔ ایک مقامی دوست تاجر، جو اپنی نئی گاڑی کی رجسٹریشن پر ایک لاکھ روپے سے زائد خرچ کر چکے ہیں، ان  کا کہنا ھے ہم ٹیکس دیتے ہیں، رجسٹریشن فیس ادا کرتے ہیں، ہر سال ٹوکن ٹیکس بھرتے ہیں، اور پھر بھی پولیس ہماری گاڑی روک کر کاغذات چیک کرتی ھے۔ لیکن وہ گاڑیاں جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئی ہیں، وہ آزادی سے سڑکوں پر گھومتی ہیں، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔  کیا یہ انصاف ھے؟" سوال پیدا ھوتا ھے کی کسٹم کی انٹیلیجنس ٹیم  کا کیا کردار ھے۔اس کے بارے  میں بھی  لاھور کسٹم  کی انچارج میڈم  رباب سکندر  کو اس خطرناک  مسئلے  پر حقیقی  ایکشن  کروا کر ملک کو کسی ناگہانی صورت حال سے  بچانا چاہیے۔
 اس صورت حال میں 
ریاستی اداروں کی ذمہ داری ھے کہ وہ ان لوگوں  کی حوصلہ  شکنی کریں 
یہ صورتحال صرف محکمہ کسٹمز کے لیے نہیں بلکہ حکومت، ایف بی آر، اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے لیے ایک کھلا چیلنج ھے۔ اگر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف مؤثر، مستقل اور منظم کارروائی نہ کی گئی تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جائے گا۔
ضرورت اس بات کی ھے کہ ایک ملک گیر سروے کے ذریعے تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی نشاندہی کی جائے۔ان گاڑیوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ کسٹمز کے اندر موجود بدعنوان عناصر کے خلاف احتسابی عمل شروع کیا جائے۔ پولیس اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو جدید نظام اور اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ان گاڑیوں کو روکتے وقت قانونی تحفظ محسوس کریں۔میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام ان معاملات پر آواز بلند کریں تاکہ حکام کو عملی اقدامات پر مجبور کیا جا سکے۔لاھور میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی بھرمار صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ قومی نوعیت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ صورتحال قانون کی بالادستی، ریاستی وقار، اور قومی معیشت پر ایک کاری ضرب ھے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک قانون پسند، باوقار اور ترقی یافتہ ملک بنے، تو ہمیں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کو فوری اور مستقل طور پر روکنا ہوگا۔یہ صرف محکمہ کسٹمز نہیں، پوری ریاست کا امتحان ھے۔ اب فیصلہ  ایف بی آر کے چیئرمین  کے ہاتھ میں ھے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یا واقعی کچھ کرنے کی ہمت دکھاتے ہیں۔ بے شک عوام نان ٹیکس پیڈ گاڑیوں کا کھلیعام  سڑکوں پر دوڑنے  کے عمل کو اپنے ساتھ سنگین زیادتی تصور کرتے ہیں۔ جو ہرگز معاشرتی مساواتی عمل نہیں۔