فائلر، نان فائلر اور لیٹ فائلر کی کیٹیگری کو فوری ختم کیا جائے:ایس ایم تنویر

78 انڈسٹریز شعبہ تعمیرات سے منسلک ہیں، ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی قلت ہے، گھر بننا بند ہوئے تو 55 لاکھ افراد کا روزگار چلا گیا
 جب کنسٹرکشن انڈسٹری میں منافع ختم ہوا تو سرمایہ اس شعبے سے نکل گیا‘ 3 لاکھ اضافی گھر بنانا بہت مشکل ہے، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا:پریس کانفرنس
لاہور(احمد حسن)لاہور میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے تاجروں اور کنسٹرکشن انڈسٹری سے متعلق اہم پریس کانفرنس ہوئی ،جس میں وزیراعظم کی جانب سے متوقع پیکج پر بزنس کمیونٹی نے اپنے مطالبات اور تحفظات پیش کیے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرم شیخ اور پیٹرن این چیف  ایس ایم تنویر  نے کنسٹرکشن انڈسٹری سے متعلق اہم پریس کانفرنس کی۔ ایس ایم تنویر نے کہا وزیراعظم ہاؤسنگ انڈسٹری میں ایک پیکیج کا اعلان کرنے والے ہیں، معیشت کی بحالی اور نوکریاں پیدا کرنے پر بات اہم ہے۔
انہوں نے کہا 78 انڈسٹریز شعبہ تعمیرات سے منسلک ہیں، ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی قلت ہے، گھروں کی تعمیر سے 50 لاکھ افراد کو روزگار مل رہا تھا، گھر بننا بند ہوئے تو 55 لاکھ افراد کا روزگار چلا گیا۔ایس ایم تنویر نے کہا ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہے، جب کنسٹرکشن انڈسٹری میں منافع ختم ہوا تو سرمایہ اس شعبے سے نکل گیا۔ 3 لاکھ اضافی گھر بنانا بہت مشکل ہے، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، فائلر، نان فائلر اور لیٹ فائلر کی کیٹیگری کو فوری ختم کیا جائے۔