زیادہ خسارے والے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے، مقامی کمیونٹی اور صوبائی حکومتیں شراکت دار ہیں‘خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فوری پائلٹ پراجیکٹس کا آغاز کیا جائے: وزیراعظم

رمضان پیکیج  امدادی رقوم ڈیجیٹل والٹس سے دی جائیں شہبازشریف
 عوام کی عزت و تکریم مجروح نہیں ہونی چاہیے‘ غریب  اور سفید پوش  طبقے کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیح ہے‘رمضان کیلئے سودمند پیکیج اور سفارشات مرتب  کی جائیں:وزیراعظم
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں اماراتی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہیں، حکومت بزنس ٹو بزنس تعاون کو اہمیت دیتی ہے: یواے ای کے  بزنس گروپ کے وفد  سے ملاقات میں گفتگو
وزیر اعظم نے جواہرات و قیمتی پتھروں کے شعبے کیلئے قومی پالیسی فریم ورک کی منظوری دیدی‘450 ارب ڈالر کے ذخائر کے باوجود برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر، حکومت کا پانچ برس میں ایک ارب ڈالر کا ہدفؑ

اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے  رمضان المبارک  کیلئے متعلقہ اداروں کو سود مند پیکیج اور سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کر  تے ہوئے کہا ہے غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی حکومت کے مجوزہ رمضان اور پچھلے سال رمضان پیکج کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں تمام متعلقہ اداروں اور وزارتوں کی پچھلے سال رمضان پیکج کی شفافیت پر مستند آڈٹ ادارے کی طرف سے رپورٹ پر ستائش کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے سال سے وفاقی حکومت نے غریب عوام کو رمضان پیکج کی بدولت ارزاں نرخوں پر اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کیلئے  شفاف نظام ترتیب دیا ہے، ملک میں کئی دہائیوں سے جاری یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے، مالی بے ضابطگیوں، بدنظمی اور غریبوں کے استحصال کا رائج نظام حکومت نے شفاف نظام میں تبدیل کر دیا۔انہوں نے خصوصی ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے آنے والے رمضان کے لیے پچھلے سال سے بھی زیادہ موثر اور سود مند پیکج اور سفارشات مرتب کریں، یوٹیلٹی سٹورز میں بدعنوانی کی وجہ سے مستحق افراد اپنے حق سے محروم تھے، غریبوں اور سفید پوش عوام کی مالی معاونت اور سماجی آسودگی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ غریب عوام میں رمضان پیکج کے امدادی رقوم کی فراہمی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو، عوام کو امدادی رقوم کی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہمی کیش لیس معیشت کے حصول کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی رمضان پیکج کی تقسیم میں شمولیت سے کیش لیس اکانومی کو فروغ ملے گا، تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی رقوم میں غریب عوام کے دائرہ کار اور شمولیت کو ممکن حد تک وسیع کیا جا سکے۔‘وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے بزنس گروپ سجوانی گروپ کے وفد  نے  ملاقات کی‘اس موقع پر شہبازشریف نے کہا  دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں، اور ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر روابط اور تعاون جاری  ہے ۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے مزید مواقعوں پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں، اور ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں حکومتوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر روابط اور تعاون جاری ہیں‘دریں اثناء  شہباز شریف  کی زیرِ صدارت بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے حوالے سے  اعلیٰ سطحی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک کے دور دراز علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے سولرائزیشن  کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو  PESCO اور QESCO  کے زیادہ خسارے میں چلنے والے فیڈرز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ زیادہ نقصان کرنے والے فیڈرز، کمیونٹی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے شمسی توانائی پر منتقل کیے جائیں، تاکہ نہ صرف خسارے میں چلنے والے فیڈرز کے نقصانات میں کمی ہو بلکہ مقامی آبادی کے لیے مسلسل اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے۔وزیرِ اعظم نے پائلٹ منصوبوں کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فوری طور پر پائلٹ پراجیکٹس  کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹ پراجیکٹس کو کامیاب بنانے کے لیے علاقے کے منتخب نمائندوں اور مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جائے۔علاوہ ازیںوزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جواہرات و قیمتی پتھروں  کے شعبے کی اصلاحات اور اسے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے  قومی پالیسی فریم ورک  کی منظوری دے دی ۔ وزیر اعظم نے کہا  پاکستان میں جواہرات و قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اس لیے ترجیحی بنیادوں پر جیولاجیکل سروے  کے ذریعے ان ذخائر کے جغرافیے اور مالیت کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس عمل میں تمام متعلقہ وفاقی اداروں، صوبائی حکومتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے بین الاقوامی معیار کی لیبارٹریز اور سرٹیفکیشن نظام  کے نفاذ کیلئے فوری اقدامات، بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی اور رواں برس ملک میں جیم اسٹونز کے دو سینٹرز آف ایکسیلینس  کے قیام کی بھی ہدایت دی