مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نیا موڑ سامنے آیا ہے، جہاں ملزم بلال ٹینشن نے عدالت سے اپنے تحفظ کے لیے درخواست دائر کی۔
اس درخواست میں بلال ٹینشن کا کہنا تھا کہ اسے بلا وجہ اس کیس میں ملوث کیا جا رہا ہے اور اس کا نام جان بوجھ کر لیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کی درخواست کو خارج کر دیا۔تفصیلات کے مطابق بلال ٹینشن نے اپنے تحفظ کی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں دائر کی تھی۔ درخواست میں بلال ٹینشن نے کہا کہ وہ 2 فروری کو دوسرے مقدمات میں گرفتار ہوا تھا اور اس کے بعد سیشن عدالت سے ضمانت حاصل کی تھی۔ درخواست میں اس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک شخص اس کا نام لے رہا ہے اور اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے اس کے خلاف الزامات عائد کر رہا ہے۔ بلال ٹینشن نے کہا کہ اس کا اس شخص اور اس کے بیٹے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے خدشہ ہے کہ اس کے خلاف کسی مقدمے میں نامزدگی کی کوشش کی جا سکتی ہے۔بلال ٹینشن نے مزید کہا کہ وہ عدالت سے جانی و مالی تحفظ کی استدعا کر رہا ہے۔ تاہم، عدالت نے ملزم کی عدم حاضری پر اس کی درخواست مسترد کر دی۔یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بلال ٹینشن کا نام مصطفیٰ عامر قتل کیس میں شامل ہونے والے ملزم ارمغان کے والد کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیا تھا۔
بلال ٹینشن اور ارمغان دونوں پہلے بھی تھانہ ساحل کے ایک مقدمے میں ایک ساتھ نامزد ہو چکے ہیں، جو چھ سال قبل بھتہ خوری کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق، بلال ٹینشن پر مختلف تھانوں میں مجموعی طور پر 14 مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے بلال ٹینشن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلال ٹینشن ایک عادی جرائم پیشہ ہے اور اس کے خلاف مقدمات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بلال ٹینشن اپنی قانونی مشکلات سے بچنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے اور بلا وجہ ایسی درخواستیں دائر کر رہا ہے۔