مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نیا موڑ؛ برآمد جلی ہوئی لاش کی شناخت معمہ بن گئی

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نیا موڑ؛ برآمد جلی ہوئی لاش کی شناخت معمہ بن گئی

کراچی میں مصطفیٰ عامر قتل کیس ایک نئے موڑ میں داخل ہوگیا، جب کہ ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ جلی ہوئی لاش کی شناخت ممکن ہوسکے۔

تفتیشی اداروں کو اب تک ملنے والے شواہد، ملزمان کے بیانات اور اعترافات کے باوجود یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہو سکا کہ گاڑی سے برآمد ہونے والی جلی ہوئی لاش واقعی مصطفیٰ عامر کی ہے یا کسی اور کی۔

عدالتی کارروائی اور احکامات
جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایدھی حکام کو ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش کو ایدھی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق:

اگر ڈی این اے رپورٹ مثبت آئی، تو لاش مصطفیٰ عامر کے لواحقین کے حوالے کر دی جائے گی۔اگر رپورٹ منفی آئی، تو لاش کو دوبارہ لاوارث قبرستان میں دفن کر دیا جائے گا۔جب تک رپورٹ نہیں آتی، لاش کو سرد خانے میں محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پولیس سرجن کا بیان
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے کیماڑی میں ایدھی قبرستان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جلی ہوئی لاش کے ڈی این اے نمونے لینے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ:لاش بری طرح جل چکی ہے، جس کے باعث موت کی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا۔ڈی این اے نمونے لینے میں کافی مشکلات پیش آئیں، لیکن عمل مکمل کر لیا گیا۔ڈی این اے رپورٹ 3 سے 7 دن میں متوقع ہے، جس کے بعد شناخت کا تعین ممکن ہو سکے گا۔
تفتیشی پیش رفت
کیس کی تحقیقات میں کئی اہم شواہد سامنے آئے ہیں، اور پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد مزید گتھیاں سلجھنے میں مدد ملے گی۔ تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ اگر رپورٹ مصطفیٰ عامر کی شناخت کی تصدیق کر دے تو مقدمے کی سمت مزید واضح ہو جائے گی۔